30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وفی الشامیۃ عن المقدسی عن المحیط قضاہ الالف فانکر الطالب فصالحہ بمائۃ صح ولایحل لہ اخذھا دیانۃ [1] اھ،وسرد النقول فی ذاك یطول،وقال فی الھدایۃ الاصل ان الصلح یجب حملہ علی اقرب العقود الیہ واشبھھابہ احتیالا لتصحیح تصرف العاقد ما امکن [2] اھ فبما اسمعتك یتحصل الجواب عن تمسك المولی البرھان بثلثۃ اوجہ ۱۱الاول ارجاع الصلح الی تلك العقود تقدیر وتصویر ضروری فلایتعدی ۱۲الثانی انما تثبت ھذہ العقود بتلك الالفاظ فی ضمن الصلح وکم من شیئ یثبت ضمنا ولایثبت قصدا الاتری ان قولہ اعتق عبدك ھذا عنی بالف یتضمن الابتیاع مع انہ لایعقد قصدا بلفظ الاعتاق،۱۳الثالث ان ھذہ العقود انما تقدر قضاء ولاتؤ ثر فی الدیانۃ
|
اور فتاوٰی شامی میں ہے مقدسی کے حوالے سے محیط سے منقول ہے کہ اگر کسی نے قرض خواہ کو ہزار دیا مگر قرضخواہ وصولی سے منکر ہے تو مقروض نے ایك صد پر صلح کر لی توصحیح ہے لیکن قرض خواہ کو دیانۃً لینا حلال نہیں ہےاھ،یہاں تمام نقول کو ذکر کرنا ناطوالت کا باعث ہوگا، ہدایہ میں فر مایا کہ قاعدہ یہ ہے کہ صلح کرنے والے کے تصرف کو صحیح قرار دینے کے لیے صلح کے قریب ترین کسی عقد پر محمول کرنا ضروری ہے تاکہ حتی الامکان اس کے عقد کو صحیح بنایا جاسکے اھ،میں نے جو کچھ بیان کیا ہے اس سے مولانا برھان الدین کی دلیل کے تین جواب ہوئے پہلا یہ کہ اس صلح کو عقود کی طرف راجح کرنا صرف فرضی صورت ہے جو کہ ایك ضرورت کے لیے ہے اس ضرورت کے بغیر تجاوز کرنا درست نہیں،دوسرا یہ کہ ان عقود کا ثبوت صلح کے الفاظ میں ضمنًا ہوتا ہے جبکہ بہت سے امور ضمنًا تو ثابت ہوتے ہیں لیکن مقصودًا ثابت نہیں ہوتے،آپ غور کریں کہ جب کوئی کہتا ہے کہ تو اپنے غلام کو میری طرف سے ایك ہزار کے بدلے آزاد کردے تو یہاں ضمنًا بیع ہوجاتی ہے،جبکہ"آزاد کردے"کے لفظ سے قصدًا بیع منعقد نہیں ہوتی،تیسرا یہ کہ یہ عقود صلح کے ضمن میں صرف قضاءً نافذ ہوتے ہیں، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع