30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ان الاصح الصحۃ لوالشھود حضورا، قال العبد الضعیف لطف بہ المولٰی اللطیف وای شیئ اکون انا حتی اتکلم بین یدی ھذا الامام الجلیل قدس سرہ الجمیل ولکن کثرۃ تصحیحات الائمۃ وجزمھم فی الجانب الاٰخر بما تجرؤنی ان ۹اقول: وباﷲ التوفیق لامساس لما فی الاصل بھٰذا الفصل فان محمدا انما اجاز الاقرار والزم المال فانما افاد جواز الصلح و انقطاع الجدال بحیث لوعادت المرأ ۃ بعد ذلك الی الجحود لم یسمعہ القاضی امالو لم یجز الصلح لم یلزم المال واقرت المرأۃ علی انکارھا ھذا ھو حاصل جواز الصلح وعدم جوازہ کمالایخفی واین ھذا من انعقاد العقد فی الواقع فیما بینھم وبین ربھم العلیم الخبیر تبارك وتعالٰی الیس قد صرحوا انہ لایطیب لہ البدل ان کان کاذ باولو ادعی رجل علٰی اٰخربیع دارہ مثلًا فاقربہ افتداءًعن یمینہ اوفرارا عن ذل الجثوبین یدی القاضی ثبت البیع قضاء وجرت الاحکام من وجوب التسلیم ولزوم الشفعۃ وغیر ذلك لکن ھذا المدعی الکاذب انما یأخذ جمرۃ نار ثم السران المصالحین |
اسی لیے انھوں نے اس کے بعد یہ تفریع قائم کی کہ اصح بات یہ ہے کہ گواہ موجود ہو تو اقرار سے نکاح صحیح ہوگا،یہ عبد ضعیف(اﷲ تعالٰی مہربان ا س پر مہربانی فرمائے) میں کون ہوں جوا س عظیم امام کے سامنے بات کروں لیکن تصحیح کی کثرت اور ائمہ کرام کا جزم اس کے خلاف ہے جس کی وجہ سے مجھے جرأت ہو رہی ہے کہ میں بات کروں اور توفیق اﷲ تعالٰی سے ہے۔اصل کے بیان کا اس بحث سے کوئی تعلق نہیں ہے،کیونکہ امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی نے صرف اقرار کو جائزا ور مال کو لازم فرمایا ہے جس کا مفاد صرف صلح کا جواز اور جھگڑا ختم کرنا ہے حتی کہ اگر عورت ا س کے بعد دوبارہ انکار کرے تو قاضی اس کی سماعت نہیں کرے گا لیکن اگر صلح کو جائز نہ مانا جائے تو مال لازم نہیں ہوگا اور عورت کا انکار باقی رہے گا،صلح کے جواز اور عدم جوازکا حاصل صرف یہی ہے جیسا کہ واضح ہے،اس کافی الواقع عند اﷲ نکاح کے منعقد ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے،کیا ایسی صورت میں مدعی کے جھوٹا ہونے پر معاوضہ کے اس کے لیے طیب نہ ہونے پر فقہاء نے تصریح نہیں کی،ایك شخص دوسرے کے خلاف ا س کے مکان کی فروختگی کا جھوٹا دعوٰی کرے اور مدعی علیہ قسم سے بچنے کے لیے فروختگی کا اقرار کرلے یا قاضی کے ہاں پیشی کی رسوائی سے بچتے ہوئے اقرار کرلے تو اس صورت قضاء بیع ثابت ہو جائےگی اور اس پر مکان کا قبضہ دینا اور شفعہ وغیرہ جیسے احکام جاری ہوں گے اس کے باوجود جھوٹے مدعی کی وصولی اس کے لیے جہنم کا انگارا ہے،پھر دو صلح کرنے والوں نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع