30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کمافی العقود وغیرھا و اما ثالثا فلان مالہ من علامۃ الافتاء اشد قوۃ واعظم وقعۃ مما لھذا فقد نصوا ان علیہ الفتوی وبہ یفتی،اکد مایکون من الفاظ الفتوی و اما رابعا فلان ماعلیہ المتون وھی العمدۃ والیھا الرکون فھذہ والاربعۃ فقد ظھرت من قبل، و اما خامسا فلما تسمع اٰنفا،قد اظھر لنا المولی الامام برھان الدین محمود بن الصدر السعید تاج الدین احمد قدس سرھما فی ذخیرتہ مأخذ خیرتہ اذبنی ذلك انہ ذکر محرر المذھب محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ فی صلح الاصل ادعی رجل علی امرأۃ نکاحا فجحدت فصا لحھا بما ئۃ علی ان تقربھذا فاقرت فھذا الاقرار جائز والمال لازم ١[1]اھ فظن المولی البرھان ان محمدا اجاز النکاح بالاقرار وقد علم ان ھذا لایصح الابمحضر من الشھود ففرع علیہ
|
قابل قبول ہے جیساکہ عقود وغیرہ میں ہے ثالثًا اس لیے کہ جس میں فتوٰی کی قوی علامت پائی جائے وہ قوت اور وقعت کے لحاظ سے پختہ اور وزنی ہوتا ہے،چنانچہ فقہاء کرام نے اس پر تصریح کی ہے"علیہ الفتٰوی"اور"بہ یفتی"کے الفاظ فتوٰی کے باب میں سب سے زیادہ پختہ الفاظ ہیں۔رابعًا اس لیے کہ کتب متون جس کو معتمد علیہ قرار دیں اس کی طرف ہی رجوع کرنا ہوتا ہے،یہ چاروں امورپہلے واضح ہوچکے ہیں،خامسًا اس لیے جو آپ ابھی سنیں گے کہ امام برہان الدین محمود بن الصدر السعید تاج الدین احمد قدس سرہمانے اپنے ذخیرہ میں جس کو اپنے پسندیدہ امور کا ماخذ ہمارے لیے ظاہر کیا ہے اس کی بنیاد محرر مذہب امام محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے ذکر کردہ مسئلہ پر ہے جس کو انھوں نے اصل یعنی مبسوط کے"باب الصلح"میں بیان کیا ہے وہ یہ کہ ایك شخص نے ایك عورت کے بارے میں دعوٰی بیان کیا کہ یہ میری منکوحہ ہے جبکہ عورت نکاح سے انکاری ہے تو اس نے عورت سے سوروپے کے بدلے صلح کرکے اس سے نکاح کا اقرار کرالیا تو عورت کا اقرار جائزاور مال لازم ہوجائے گا اھ اس سے محترم برہان الدین کو گمان ہواکہ امام محمد نے عورت کے اقرار سے نکاح کو جائز قراردیا اور علامہ برہان الدین نے یقین کرلیا کہ یہ اقرار گواہوں کی موجود گی میں ہوا تو صحیح ہوگا، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع