30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
۷اقول: فقد بان بحمد اﷲ ضعف مانقل فی التنویر والدر عن الذخیرۃ بعد ماقدما عدم الانعقاد بالاقرار علی المختار کما سمعت حیث قال عقیبہ وقیل ان کان بمحضر من الشھود صح وجعل الاقرار انشاء وھو الاصح ذخیرۃ[1] اھ فاعلم اولًا ان المولیین المحققین رحمھما اﷲ تعالٰی قد اشارا الی تضیعف ھذا بوجوہ،اماالمصنف فبتقدیمہ الاول وتعبیرہ ھذا بقیل واما المؤلف فبتقریرہ علی الامرین وتعلیلہ للاول فان التعلیل دلیل التعویل کما نص علیہ فی العقود الدریۃ وغیرھا فافھم،و۸ثانیًا ان تاملت ماالقینا علیك فوجوہ ضعفہ لاتخفی لدیك ط ففلما تقدم فی کلامی وکلمات العلماء الکرام علی عدم الانعقاد بالاقرار من دلائل لاترد ولاترام ولاشك ان الاقوی دلیلااحق تعویلا و اما ثانیا فلما لہ من کثرۃ الترجیحات وقد تقرران العمل بما علیہ الاکثر
|
اقول: بحمداﷲ تعالٰی تنویر اوردُر میں جو ذخیرہ سے نقل کیا گیا جہاں انھوں نے اقرار انکاح کو مختار قول کے مطابق نکاح قراردیا جیسا کہ تو نے سنا اور اس کے بعد یہ کہا(کہ بعض نے کہا ہے کہ یہ اقرار گواہوں کے سامنے ہو تو نکاح صحیح ہے اور اقرار کو انھوں نے انشاء قرار دیا ہے اور ذخیرہ کے حوالے سے اس کو اصح کہا)اس نقل کا ضعف واضح ہوگیا تو غور کرو اولًا اس لیے کہ(شامی اور طحطاوی رحمہما اﷲ دونوں قابل احترام حضرات نے اس کے ضعف پر کئی وجوہ سے اشارہ فرمایا،اور بیشك مصنف(صاحب در)نے پہلے قول یعنی عدم انعقاد کو پہلے ذکر اور دوسرے کو"قیل"کے ساتھ ذکر کیا ہے اور مؤلف یعنی صاحب ذخیرہ نے اگرچہ دونوں قولوں کو ذکر کیا لیکن وجہ اور دلیل صرف پہلے قول کی ذکر کی جو کہ قابل اعتماد ہونے کی دلیل ہے جیسا کہ یہ قاعدہ عقود الدریہ وغیرہ میں بیان ہے،غور کرو ___دوسرا اس لیے کہ میں نے جو وجوہِ ضعف آپ کو بیان کئے ہیں اگر آپ نے غور کیا ہو تو اس نقل کے ضعف کو واضح کرنے کے لیے کافی ہیں مثلا اول یہ کہ میں نے اور دیگر علماء کرام نے جو کلمات ذکر کئے ہیں کہ اقرار سے نکاح نہیں ہوتا اور اس پر جو دلائل پیش کئے گئے وہ ناقابل تردید ہیں اور بلاشك وشبہہ جو دلائل وزنی ہوں گے وہ زیادہ قابل اعتماد ہونگے ثانیًا اس لیے کہ اس پر کثیر ترجیحات ذکر کی گئی ہیں اوریہ بات مسلمہ ہے کہ جس پر اکثریت ہو وہ عمل کے لیے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع