30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی قرۃ العیون عن العمادیۃ کذا تجوز الشھادۃ بالشھرۃ والتسامع فی النکاح حتی لورأی رجلا یدخل علی امرأۃ وسمع من الناس ان فلانۃ زوجۃ فلان وسعہ ان یشھد انھا زوجتہ وان لم یعاین عقدالنکاح [1]۔ |
قرۃ العیون میں عمادیہ سے منقول کہ نکاح کے معاملہ میں شہرت کی بنا پر بغیر تحقیق شہادت جائزہے حتی کہ ایك شخص کو ایك عورت کے ہاں آتے جاتے دیکھا اور لوگوں سے معلوم ہوا کہ یہ عورت اس شخص کی بیوی ہے تو اس کو جائزہے کہ وہ اس عورت کے بارے میں اس شخص کی بیوی ہونے کی شہادت دے اگرچہ ا س نے نکاح نہ دیکھا ہو۔ (ت) |
تو ان کا باہم تصادق بدرجہ اولٰی مثبت نکاح،
|
فی الشامیۃ عن ابی السعود عن العلامۃ الحانوتی صرحوا بان النکاح یثبت بالتصادق والمراد منہ ان القاضی یثبتہ بہ ویحکم بہ ٢[2] اھ ملخصا۔
|
فتاوٰی شامی میں ہے ابی سعود کی علامہ حانوتی سے راویت ہے کہ فقہائے کرام نے تصریح کی ہے کہ مرد وعورت کی آپس میں خاوند بیوی ہونے کی تصدیق سے نکاح ثابت ہوجائے گا اس سے مراد یہ ہے کہ قاضی اس نکاح کو ثابت قرار دے گا اور اس کو نافذ رکھے گا اھ ملخصًا(ت) |
پس ایسی صورت میں واجب ہے کہ انھیں زوج وزوجہ ہی تصور کیا جائے گا جو خواہی نخواہی ان کی تکذیب کرے گا اور بدگمانی کے ساتھ پیش آئے گا مرتکب حرام قطعی ہوگا باایں ہمہ حکم قضا اور ہے اور امر دیانت اور چیز،اگر وہ اپنے اظہار واخبار میں حقیقۃً سچے ہوں یعنی واقع میں ان کے باہم نکاح ہو لیا ہے تو عنداﷲ بھی زوج و زوجہ ہیں ورنہ مجرد ان الفاظ سے جبکہ بطور اخبار بیان میں آئے ہوں نکاح منعقد نہ ہوگا وہ بدستور اجنبی و اجنبیہ رہیں گے،نکاح جن امور وافعال کو ثابت وحلال کرتا ہے دیانۃً ان کے لیے اصلًا ثابت وروا نہ ہوں گے کہ اس تقدیر پر یہ الفاظ کوئی عقد وانشا نہ تھے محض جھوٹی خبر تھی اور جھوٹی خبر دیانۃً باطل و بے اثر،
۴اقول:علماء تصریح فرماتے ہیں اگر شوہر نے اقرار طلاق کیا کہ میں اسے طلاق دے چکاہوں اور واقع میں نہ دی تھی تو وہ قضاءً طلاق ہوگئی مگر دیانۃً ہر گزنہ ہوگی کہ اس کا یہ قول طلاق دینا نہ تھا بلکہ طلاق غیر واقع کی جھوٹی خبر دینا تھا،حاشیہ علامہ طحطاوی میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع