30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فتح القدیر میں ہے:
|
وکلتہ ان یزوجھا مطلقا فانہ لو زوجھا من نفسہ لایجوز [1]۔ |
اگر بالغہ نے کسی کو کہا کہ میرا نکاح کردے اور کوئی تخصیص نہ کی اس صورت میں اگر اس شخص نے اس کا نکاح خود اپنے ساتھ کرلیا تو جائز نہ ہوگا۔(ت) |
الحمد لله حکمِ مسئلہ مفصل ومنقح ہوگیا اور سوال کی صورت کلیہ یعنی"تولی الواحد طرفی النکاح"اور الفاظ جزئیہ یعنی"زوجت بنت عمی فلانۃ من نفسی"(نکاح کی دونوں جانب سے ایك ہی شخص کا ولی بننا اور جزئیہ کے الفاظ کہ میں نے چچا زاد کا نکاح اپنے ساتھ کرلیا۔ت)دونوں کے متعلق احکام وخلافیات علمائے کرام وتصحیحات ائمہ وغیرہا ضروریات متعلقہ مقام،سب نے وضوح تام وانجلائے تمام پایا اسی قدر بس ہے اور زیادہ تفصیل کی حاجت نہیں،والله تعالٰی اعلم
مسئلہ ٣: علمائے دین اور مفتیان شرع متین بیچ اس مقدمہ کے کیا فرماتے ہیں ایك عورت ہے کہ اس کے علامت سوائے مخرج بول کے اور نہیں ہے اور نکاح اس کا زید سے ہو گیا ہے،بعد نکاح ہونے کے یہ حال معلوم ہوا،اب اس کا نکاح درست ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب:
صورت مسئولہ میں وہ نکاح صحیح اور نصف مہر ذمہ زید لازم،
|
فی فتاوی الامام قاضی خان،خیار العیب وھو حق الفسخ بسبب العیب عندنا لایثبت فی النکاح فلا ترد المرأۃ بعیب ما [2] وفی الدرالمختار الخلوۃ بلا مانع کالوطی فی تاکد المھر انتھی [3] مختصرًا و ملخصا، واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
فتاوٰی قاضی خاں میں ہے خیار عیب جو کہ عیب کی وجہ سے حق فسخ کا نام ہے،ہمارے نزدیك یہ نکاح میں ثابت نہیں ہوتا،لہذا کسی عیب کی بنا پر عورت کا نکاح رَد نہ ہوگا،درمختار میں ہے کہ نکاح کے بعد خلوت وطی کی طرح مہر لازم کردیتی ہے بشرطیکہ خلوت کے دوران کوئی مانع نہ ہو اھ مختصرًا وملخصًا والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع