30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شامی میں ہے:
|
ولایخفی ان المراد حیث لاولی اقرب منہ [1]۔ |
اور ظاہر ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس سے زیادہ قریب کوئی اور ولی نہ ہو۔(ت) |
شرح علائی میں ہے:
|
لوزوج الابعد حال قیام الاقرب توقف علٰی اجازتہ [2] اھ اقول: فافادان الابعد عند حضور الاقرب فضولی فاذا تولی الشطرین بطل۔ |
اگر بعید ولی نے اقرب کی موجودگی کے باوجود نابالغہ کانکاح کیا تو یہ اقرب ولی کی اجازت پر موقوف ہوگا اھ(ت) اقول: اس کلام کا مفاد یہ ہے کہ اقرب کی موجودگی میں بعید ولی،فضولی قرار پائے گا۔لہذا اگر بعید اس صورت میں دونوں جانب سے ولی بن کر نکاح کرے تو نکاح باطل ہوگا (ت) |
اسی میں ہے:
|
فلو کبیرۃ فلابد من الاستیذ ان(قبل العقد اھ ش)حتی لو تزوجھا بلااستیذان فسکتت اوافصحت بالرضی لایجوز عندھما(لانہ تولی طرفی النکاح وھو فضولی من جانبھا فلم یتوقف عندھما بل بطل اھ ش)و قال ابویوسف یجوز٣[3]اھ مزیدا من حاشیۃ الشامی۔ |
اگر لڑکی بالغہ ہو تو اس سے اجازت لینا ضروری ہے(قبل از نکاح اھ ش)حتی کہ اگر فضولی نے اس سے خود نکاح بغیر اجازت کرلیا اور لڑکی خاموش رہی یا نکاح کے بعد اس نے رضامندی ظاہرکی توا مام اعظم اور امام محمد کے قول پر نکاح جائز نہ ہوگا کیونکہ یہ بالغہ کی موجودگی میں خود اس کی طرف سے فضولی ہے لہذا دونوں اماموں کے نزدیك یہ نکاح موقوف نہ ہوگا بلکہ باطل ہوگا اھ ش،اور امام ابو یوسف کے قول پر جائز ہے۔اضافی عبارت حاشیہ شامی کی ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع