30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یتولی طرفی النکاح واحد لیس بفضولی ولومن جانب وان تکلم بکلامین علی الراجح١[1] ملخصا اھ |
جو شخص دونوں جانب سے نکاح کا ولی ہو وہ کسی جانب سے بھی فضولی نہ قرار پائے گا اگرچہ وہ ایجاب وقبول دو کلاموں سے ادا کرے،یہ راجح قول ہے ملخصًا اھ(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
اذا کان فضولیا منھما اومن احدھما ومن الاٰخر اصیلااووکیلااوولیا ففی ھذہ الاربع لایتوقف بل یبطل عندھما خلافا للثانی حیث قال یتوقف علی قبول الغائب کما یتوقف اتفاقا لوقبل عنہ فضولی اٰخر قولہ وان تکلم بکلامین خلافا لما فی حواشی الھدایۃ وشرح الکافی من انہ لوتکلم بکلامین یتوقف اتفاقا وردہ فی الفتح بان الحق خلافہ ولاوجود لھذا القید فی کلام اصحاب المذھب [2] اھ مختصرًا۔ |
اگر کوئی شخص دونوں جانب سے فضولی ہو یا ایك جانب سے فضولی اور دوسری جانب سے اصیل ہو یا وکیل یا ولی ہو تو ان چاروں صورتوں میں نکاح موقوف نہ ہوگا بلکہ امام اعظم اور امام محمد کے نزدیك باطل ہوگا،امام یوسف اس کے خلاف ہیں ان کے نزدیك یہ موقوف ہوگا جس طرح ایك فضولی کی طرف سے ایجاب کو دوسرا فضولی قبول کرلے تو بالاتفاق موقوف ہوتا ہے،قولہ(اس کا قول)کہ اگرچہ دو کلاموں سے ایجاب وقبول کرے،یہ خلاف ہے اس کے جو ہدایہ کے بعض حواشی اور کافی کی شرح میں ہے کہ اگر دو کلاموں سے اس نے ادا کیا تو بالاتفاق نکاح مو قوف ہوگا،اس کو فتح میں رد کردیا گیا ہے کیونکہ حق اس کے خلاف ہے اور اس قید کا اصحاب مذہب میں کوئی وجود نہیں ہے اھ مختصرًا(ت) |
تنویر میں ہے:
|
لابن العم ان یزوج بنت عمہ الصغیرۃ من نفسہ [3]۔ |
چچا زاد کو جائز ہے کہ وہ اپنی چچا زاد نابالغہ کا خود اپنے ساتھ نکاح کرلے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع