30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عن المضمرات ان الاول ھوالصحیح وعلیہ الفتوی وکذا قال فی البحر فی فصل الوکیل والفضولی ان المختار فی المذھب خلاف ماقالہ الخصاف وان کان الخصاف کبیرا [1] اھ مافی ردالمحتار ملخصا۔
۳اقول: وما عزافی البحر للامام قاضیخان فانما نقلہ قاضی خان عن الامام شمس الائمۃ السرخسی اما ھوبنفسہ فقد قدم عدم الصحۃ ومعلوم انہ انما یقدم مایعتمدہ۔ |
عمل جائز ہے۔اور حاکم شہید نے بھی منتقٰی میں خصاف جیسا قول کیا ہے اھ قلت اور تتارخانیہ میں مضمرات کے حوالے سے ہے کہ پہلاقول صحیح ہے اورا سی پر فتوٰی ہے۔بحر میں فضولی اور وکیل کی فصل میں یونہی اس کو مذہب میں مختار قرار دیا ہے جو کہ خصاف کے قول کے خلاف ہے اگرچہ خصاف کا بڑا علمی مقام ہے اھ یہاں رد المحتار کی عبارت کا خلاصہ ختم ہوا۔ اقول:(میں کہتا ہوں۔ت)بحر میں جو کچھ امام قاضی خاں کی طرف منسوب کیا اس کو قاضی خاں نے امام شمس الائمہ سرخسی سے نقل کیا ہے لیکن خود ان کا موقف عدم صحت ہے جس کو انھوں نے پہلے ذکر کیا ہے اور یہ بات معلوم شدہ ہے کہ وہ اپنے معتمد علیہ کو پہلے ذکر کرتے ہیں۔(ت) |
اور اگر بنتِ عم نابالغہ کے لیے ولی اقرب موجود ہے"ای غیر غائب بغیبۃ منقطعۃ"(یعنی لمبے سفر پر غائب نہ ہو۔ت)یا بالغہ سے خاص اپنے ساتھ نکاح کرلینے کا اذن نہ لیا اگرچہ اس نے مطلق تزویج کا اذن دیا ہو،تو ان صورتوں میں یہ ابن العم ایك جانب سے فضولی ہوگا اور جو کسی طرف سے فضولی ہو اُس کے لیے"تولی شطری النکاح"جانز نہیں اگرچہ ایجاب وقبول دو عبارتوں جداگانہ میں ادا کرے ھوالحق الصواب خلاف لما فھم من بعض الکتب(یہ حق اور صحیح ہے بعض کتب سے جو سمجھا گیا ہے وہ اس کے خلاف ہے۔ت)یہاں تك کہ تنہا اس کا عقد کرلینا امام اعظم وامام محمد رضی الله تعالٰی عنہما کے نزدیك باطل محض ہے کہ اس کے بعد اجازت ولی یا بالغہ سے بھی نافذ نہ ہوگا۔
|
خلافا للامام الثانی حیث جعلہ من الموقوف فان اجاز من لہ الاجازۃ جاز والاّ لا۔ |
امام ثانی(یعنی امام یوسف)نے اس کے خلاف اس نکاح کو موقوف قرار دیا ہے کہ اگر صاحب اجازت اس کو جائز قرار دے تو جائز ہوگا ورنہ نہیں۔(ت) |
تنویر الابصار و درمختار میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع