30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ردالمحتار میں ہے:
|
فی البحر لابد من تمییز المنکو حۃ عند الشاھدین لتنتفی الجھالۃ،فان کانت حاضرۃ متنقبۃ کفی الاشارۃ الیھا والاحتیاط کشف وجھھا فان لم یروا شخصھا وسمعوا کلامھا من البیت ان کانت وحدھا فیہ جاز ولو معھا اخری فلالعدم زوال الجھالۃ وان کانت غائبۃ ولم یسمعوا کلامھا بان عقد لھا وکیلھا فان کان الشھود یعرفونھا کفی ذکر اسمھا اذا علموا انہ ارادھا وان لم یعرفوھا لابدمن ذکر اسمھا واسم ابیھا وجدھا وجوز الخصاف النکاح مطلقا حتی لو وکلتہ فقال بحضرتھما زوجت نفسی من موکلتی اومن امرأۃ جعلت امرھا بیدی فانہ یصح عندہ قال قاضی خان والخصاف کان کبیرا فی العلم یجوز الاقتداء بہ وذکر الحاکم الشھید فی المنتقی کما قال الخصاف اھ قلت وفی التتارخانیۃ |
بحر میں ہے کہ گواہوں کے نزدیك منکوحہ کا ممتاز ہونا ضروری ہے تاکہ کسی قسم کی جہالت ولاعلمی نہ رہے،پس اگر مجلس میں نقاب پہن کر حاضر ہوتو نکاح میں اس کی طرف اشارہ کافی ہے اگرچہ چہرہ کُھلا رکھنے میں احتیاط ہے۔اگر مجلس والے اس عورت کی شخصیت کو نہ دیکھ پائیں اور کمرے میں سے اس کی آواز سن رہے ہوں اگر وہ کمرے میں اکیلی ہو تو نکاح جائز ہے اور اگر اس کے ساتھ کمرے میں کوئی عورت بھی ہو تو جائز نہیں،کیونکہ لاعلمی باقی ہے۔اور اگر وہ عورت مجلس میں موجود نہیں اور اس کی آواز بھی سنی نہیں جاسکتی اس کی طرف سے اس کا نکاح وکیل کر رہا ہو تو اگر گواہ اس عورت کو جانتے ہیں تو نکاح میں عورت کا نام ذکر کردینا کافی ہے جبکہ گواہوں کو علم ہو کہ وکیل کی مراد وہی عورت ہے۔اور اگر گواہ اس کو نہ پہچانتے ہوں تو عورت،اس کے والد اور دادا کانام ذکرکرنا ضروری ہے۔اور امام خصاف نے نام ذکر کئے بغیر بھی جائز کہا ہے مثلا ایك عورت نے نکاح کرنے والے کو گواہوں کے سامنے اپنا وکیل بنایا ہو تو اس سے نکاح کرنے والا یوں کہہ دے کہ میں نے ان گواہوں کی موجودگی میں اپنی مؤکلہ کا نکاح اپنے ساتھ کردیا یا یوں کہہ دے کہ جس عورت نے مجھے اپنے نکاح کا اختیار دیا ہے میں نے اس کا نکاح اپنے ساتھ کردیا،تو اس طرح بھی امام خصاف کے قول پر نکاح صحیح ہوگا،امام قاضی خاں نے فرمایا کہ خصاف کا علم میں بڑا مقام ہے اس کی بات پر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع