30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فتح القدیر میں ہے:
|
قال شیخ الاسلام خواھر زادہ ھذا اذا ذکر لفظا ھو اصیل فیہ امااذا ذکر لفظا ھونائب فیہ فلایکفی،فان قال تزوجت فلانۃ کفی وان قال زوجتھا من نفسی لایکفی لانہ نائب فیہ وعبارۃ الھدایۃ وھی ماذکرناہ اٰنفاصریحۃ فی نفی ھذا الاشتراط وصرح بنفیہ فی التجنیس ایضا،فی علامۃ غریب الروایۃ والفتاوی الصغری [1] الخ۔
۲قلت وعلٰی ھذا عول فی الدر وغیرہ من المعتبرات وافاد البحر وغیرہ ضعف خلافہ۔ |
شیخ الاسلام خواہر زادہ نے کہا ہے کہ یہ اس وقت جائز ہوگا جب وہ اپنے اصیل ہونے کو تعبیر کرے،یعنی"میں نے نکاح کرلیا"کہے،لیکن اگر اس نے نائب ہونے کو تعبیر کیااور"نکاح کردیا"کہا تو یہ کافی نہیں،پس اگر اس نے"فلاں عورت سے نکاح کرلیا"کہا،تو وہ کافی ہے اور اگر یوں کہا کہ"میں نے فلاں عورت کا اپنے ساتھ نکاح کردیا"تو کافی نہ ہوگا کیونکہ اس کہنے میں وہ نائب ہے۔اور ہدایہ کی وہ عبارت جو ابھی ہم نے ذکر کی ہے وہ اس بات کی نفی میں صریح ہے اور تجنیس میں بھی اس کی نفی پر تصریح،غریب الروایۃ اور فتاوٰی صغرٰی کے حوالے سے کی ہے الخ(ت) قلت(میں کہتاہوں۔ت)کہ دُر وغیرہ معتبرہ کتب میں اسی کو معتمد علیہ قراردیا ہے۔اور بحر وغیرہ نے اس کے خلاف کو ضعیف ظاہر کیا ہے۔(ت) |
البتہ مشہود کے سامنے منکوحہ کا متمیز ہوجانا ضرور ہے۔
|
حتی لوکان حاضرۃ متنقبۃ کفت الاشارۃ وان کان الاحوط کشف الوجہ۔ |
حتی کہ اگر وہ عورت نقاب پہنے مجلس میں حاضر ہو تو نکاح میں اس کی طرف اشارہ کافی ہے اگرچہ زیادہ احتیاط اس میں ہے کہ وہ چہرہ کُھلارکھے۔(ت) |
پس اگر بحالتِ غیبت صرف بنتِ عمی یا فلانۃ یابنتِ عمی فلانۃ یا ان کے مثل جس لفظ سے شہود اسے متمیز کرلیں تو اس قدر کافی،ورنہ ذکرِ اب وجد یعنی فلانہ بنتِ فلاں بن فلاں کہنا ضروری ہے۔
|
خلافا للامام الخصاف ومنتقی الامام الحاکم الشھید والامام شمس الائمۃ السرخسی۔ |
امام خصاف نے اور منتقی میں امام حاکم شہید اور امام شمس الائمہ سرخسی نے اس کے خلاف قول کیا ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع