30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یَعِظُکُمُ اللہُ اَنۡ تَعُوۡدُوۡا لِمِثْلِہٖۤ اَبَدًا اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤْمِنِیۡنَ ﴿ۚ۱۷﴾[1] |
الله تعالٰی تمھیں دوبارہ کبھی اس طرح کرنے سے منع فرماتا ہے بشرطیکہ تم مومن ہو۔(ت) |
غرض امر بالمعروف ونھی عن المنکر کی بھی ایك حد مقرر ہے کہ اس سے تجاوز آدمی کو خود ترك معروف وارتکابِ منکر میں مبتلا کردیتا ہے۔
|
وَ مَنۡ یَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللہِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہٗ ؕ[2] |
جس نے حدود سے تجاو زکیا اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا۔(ت) |
ہاں اگر دُولھا دلہن میں سے کسی کایہ عقیدہ ومذہب ہوکہ رنڈیوں کا یہ ناچ حلا ل ومباح ہے تو وہاں اس حکم کی گنجائش ہے۔والله تعالٰی اعلم
مسئلہ ٢: از شہر کہنہ ١٢ صفر المظفر ١٣٠٧ھ
بسم الله الرحمن الرحیم ماقولہم رضی الله تعالٰی عنہم اجمعین اس صورت میں کہ شخص واحد کا متولی ہونا دونوں طرفوں نکاح کا جبکہ وہ اصیل ایك طرف سے ہو اور ولی دوسری طر ف سے ہو ساتھ ایسے ایجاب کے کہ قائم مقام قبول ہے۔ جیسے ابن العم نے سامنے گواہوں کے کہا"زوجت بنت عمی فلانۃ من نفسی"(جیسے چچا زاد کہے کہ میں نے اپنی چچازاد فلاں لڑکی کا اپنے ساتھ نکاح کیا۔ت)جائز ونافذ ہے یا نہیں۔اور یہ جواز ونفاذ باجماع علمائے حنفیہ رحمہم الله تعالٰی کے ہے یا نہیں؟ بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مسئولہ میں اگر بنتِ عم نابالغہ ہے اور اس ابنِ عم سے اقرب اس کا کوئی ولی حاضر نہیں،یابالغہ ہے اور ابن عم نے خاص اپنے ساتھ نکاح کرنے کا اس سے اذن لے لیا ہے عام ازیں کہ اس کے لیے اور ولی اقرب ہو یا نہ ہو"فان ھذہ وکالۃ ولاولایۃ مجبرۃ علی البالغۃ"(تویہ وکالت ہے بالغہ پرجبری ولایت نہیں ہے۔ت)ائمہ ثلثہ رضوان الله تعالٰی علیہم کے نزدیك یہ شخص کہ ایك جانب سے اصیل دوسری طرف سے ولی یا وکیل ہے طرفین نکاح کا متولی ہوسکتا ہے خلافا للامام زفر رحمہ اﷲ تعالٰی(امام زفر رحمہ الله تعالٰی علیہ نے اس سے اختلاف کیا ہے۔ت)ہدایہ میں ہے:
|
یجوز لابن العم ان یزوج بنت عمہ من نفسہ ٣[3]۔ |
چچا زاد کو جائزہے کہ وہ چچازاد لڑکی کا اپنے ساتھ نکاح کر لے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع