30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور اگر تطوّع یا مطلق تصدق کی نیّت تھی اور سب تصدق کردے تو بالاتفاق زکوٰۃ ساقط ہوگئی۔ ہندیہ میں ہے:
|
من تصدّق بجمیع نصابہ ولا ینوی الزکوٰۃ سقط فرضھا عنہ وھذا استحسان کذا فی الزاھدی ولافرق بین ان ینوی النفل او لم تحضرہ النیۃ۔ [1] |
جس نے تمام مال صدقہ کردیا اور زکوٰۃ کی نیت نہ کی تو اس سے فرض ساقط ہوجائےگا اور یہ استحسان ہے جیساکہ زاہدی میں ہے اور اس میں کوئی فرق نہیں کہ اس نے صدقہ نفلی کی نیّت کی یا ذہن نیت سے خالی تھا۔(ت) |
اور اگر بعض تصدّق کیے تو امام محمد رحمہ اﷲتعالٰی کے نزدیك جس قدر صدقہ کیا اُس کی زکٰوۃ ساقط اور باقی کی لازم، مثلًادوسو٢٠درہم پر حولانِ حول ہوگیا اور زکوٰۃ کے پانچ درہم واجب ہولئے، اب اس نے سو درہم ﷲدے دئے تو ان سَو کی زکوٰۃ یعنی ڈھائی درہم ساقط ہوگئی دین رہے،
|
وھو روایۃعن صاحب المذھب رضی اﷲ تعالٰی عنہ کما فی الزاھدی والعنایۃوغیرھما وعن الامام ابی یوسف ایضا کما فی القھستانی عن الخزانۃ ۔قلت وبہ جزم القدوری فی مختصرہ والسمعانی فی خزانۃالمفتین عن شرح الطحطاوی ولما قال الاکمل روی ان الامام مع محمدفی ھذہ المسئلۃ [2] قال الطحطاوی عن ابی السعود عن شیخہ وھذا کالتصریح با رجحیتہ[3] اھ وقد نص فی القھستانی والھندیۃ اثرین عن الزاھدی انہ الاشبہ.[4] |
اور یہی صاحبِ مذہب (امام اعظم )رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت ہے جیسا کہ زاہدی اور عنایہ وغیرہ میں ہے اور امام ابویوسف سے بھی یہی مروی ہے ، جیساکہ قہستانی نے خزانہ سے نقل کیا ہے ۔قلت(میں کہتا ہُوں)اسی پر قدوری نے مختصر میں، سمعانی نے خزانۃالمفتین میں شرح طحطاوی سے جزم کیا ہے، اکمل نے کہا کہ امام صاحب اس مسئلہ میں امام محمد کے ساتھ ہیں، طحطاوی نے ابوالسعود سے انہوں نے اپنے شیخ سے نقل کیا کہ یہ راجح ہونے پر تصریح کی طرح ہے اھ قہستانی اور ہندیہ میں زاہدی سے یُوں نقل کیا کہ یہی اشبہ ہے(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع