30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چوری ہوگئی یا زر و زیور کسی کو قرض و رعایت دے دیا وُہ مکر گیا اور گواہ نہیں یا مر گیا اور ترکہ نہیں یا مال کسی فقیر پر دین تھا مدیون محتاج کو ابراکر دیا کہ یہ بھی حکم ہلاك میں ہے۔
اب صورتِ اُولیٰ یعنی استہلاك میں جس قدر زکوٰۃ سال تمام پر واجب ہو لی تھی اُس میں سے ایك حبّہ نہ گھٹے گا یہاں تك کہ اگر سارا مال صرف کردے اور بالکل نا دار محض ہوجائے تاہم قرضِ زکوٰۃ بدستورہے، سراجیہ ونہایہ وغیرہما میں ہے:
|
لواستھلك النصاب لا یسقط۔ [1] |
اگر نصاب کو کسی نے ہلاك کر دیا تو زکوٰۃ ساقط نہ ہو گی(ت) |
نہرالفائق وحاشیہ طحطاوی میں ہے:
|
لو وھب النصاب لغنی بعد الوجوب ضمن الواجب وھواصح الروایتین۔ [2] |
اگر کسی نے نصاب کسی غنی کو وجوب کے بعد ہبہ کر دیا تو وُہ واجب (مقدار)کا ضامن ہوگا اور یہی دونوں روایات میں اصح ہے۔(ت) |
محیط سرخسی وعالمگیریہ میں ہے:
|
فی روایۃ الجامع یضمن قدرالزکوٰۃ وھوالاصح۔ [3] |
روایۃالجامع میں ہے کہ مقدار زکوٰۃکا ضامن ہوگا اور یہی اصح(ت) |
اور صورتِ ثانیہ یعنی تصدّق میں اگر نذر یا کفارے یا کسی اور صدقہ واجبہ کی نیت کی تو بالاتفاق اس کا حکم بھی مثلِ استہلاك ہے یعنی زکوٰۃ سے کچھ ساقط نہ ہوگا جو دیااور باقی رہا سب کی زکوٰۃ لازم آئیگی۔ درمختار میں ہے :
|
اذانوی نذرًااوواجبًا آخریصح ویضمن الزکوٰۃ۔[4] |
جب کسی نے نذر کی نیّت کر لی یا کسی اور واجب کی تو صحیح ہے مگر زکوٰۃ کی ضمانت دینا ہو گی۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع