30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اُسی میں ہے:
|
قولہ ھلك کلہ ای فی اثناء الحول حتی لو استفاد فیہ غیرہ استانف لہ حولا جدید۔ [1] |
قولہ اگر سارا سا ل مال ہلاك ہوگیا، یعنی سال کے وسط میں، حتی کہ اگر اس مال کے علاوہ حاصل ہوتا ہے تو اس کے لئے نیا سال ہوگا۔ (ت) |
اور اگر یہ نقصان مستمر رہا یعنی ختمِ سال پر وُہ نصابیں پُوری نہ ہوئیں تو اس وقت جس قدرموجود ہے اتنے کی زکوٰۃ واجب ہوگی اور وہی احکام حسابِ نصاب ولحاظ عفو کے اس قدر موجود پر جاری ہوں گے، جو جا تا رہا گو یا تھا ہی نہیں کہ حولانِ حول اسی مقدار پر ہُوا حتی کہ اگر یہ مقدار نصاب سے بھی کم ہے توزکوٰۃ راسًا ساقط۔
|
وذالك لان الحولان شرط الوجوب فاذا نقص عن النصاب لم یجب شئ والا وجب فیما حال علیہ الحول ۔ |
کیونکہ سال کا گزرنا شرط وجوب ہے ،جب نصاب سے کم ہے تو کوئی شئ لازم نہ ہوگی اور اگر نصاب ہے تو جس پر سال گزرا ہے اس پر زکٰوۃ ہوگی ۔(ت) |
حدیث میں ہےحضورپُر نورسیّدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
لازکوٰۃ فی مال حتی یحول علیہ الحول [2] اخرجہ ابن ماجۃ عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا۔ |
مال پر زکوٰۃ سال گزرنے سے پہلے لازم نہیں ہوتی ، اسے ابن ماجہ نے ام المومنین سیّدہ عائشہ رضی اﷲعنہا سے روایت کیا ہے۔(ت) |
حاشیہ شامی میں ہے :
|
لواستھلکہ قبل تمام الحول فلا زکوٰۃعلیہ لعدم الشرط۔ [3]۔ |
اگر اس نے مال سال گزرنے سے پہلے ہلاك کریا تو عدمِ شرط کی وجہ سے زکوٰۃ لازم نہ ہوگی۔(ت) |
بر تقدیر ثانی یعنی جبکہ مال پر سال گزرگیا اور زکوٰۃ واجب الاداء ہوچکی، اور ہنوز نہ دی تھی کہ مال کم ہوگیا، یہ تین حال سے خالی نہیں کہ سبب کمی استہلاك ہوگا یا تصدّق یا ہلاک۔ استہلاك کے یہ معنی کہ اس نے اپنے فعل سے اُس رقم سے کُچھ ااتلاف، صرف کر ڈالا، پھینك دیا، کسی غنی کو ہبہ کر دیا۔ اور یہاں تصدّق سے یہ مراد کہ بلا نیتِ زکوٰۃکسی فقیر محتاج کو دی دیا۔ اور ہلاك کے یہ معنی کہ بغیر اس کے فعل کے ضائع و تلف ہوگیا، مثلًا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع