30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مال صرف مقادیر نصاب پر تھا عفو سرے سے تھا ہی نہیں جیسے ١٥ یا ٣٠ یا٥٠ تولے سونا کہ اس میں رتی چاول جو کچھ گھٹے گا کسی نہ کسی نصاب میں کمی کرے گا۔ ایسا نقصان دو٢ حال سے خالی نہیں یا حولان حول سے پہلے ہے یا بعد، بر تقدیرِ اوّل دو ٢حال سے خالی نہیں ، یا سال تمام پر رقم نصا ب ہائے پیشیں پھر پُوری ہوگئی یا نہیں ، اگر پُوری ہوگئی تو یہ نقصان بھی اصلًا نہ ٹہرے گا اور اس مجموع رقم پر حولان حول سمجھا جائے گا، مثلًاایك شخص یکم محرم ٧کو ١٥ تولے سونا کا مالك تھا بعدہ اس میں سے کسی قدر قلیل خواہ کثیر ضائع ہوگیا یا صَرف کردیا یا کسی کو دے ڈالا اور تھوڑا سا اگر چہ بہت خفیف باقی رہا، پھر جس قدر کم ہوگیا تھا سلخ ذی الحجہ سے پیشتراگر چہ ایك ہی دن پہلے پھر آگیا تو پورے ١٥ ۱۵ تولہ دو نصاب کامل کی زکوٰۃ دینی ہوگی کہ ایك مثقال سوناہے یونہی اگر مثلًا آٹھ تولے سونے کا مالك ہے اور وسط میں تولہ پھر گھٹ گیا کہ نصاب بھی پوری نہ رہی ، ختم سال سے پہلے چھ سات ماشے مل گیا تو وہی زکوٰۃ تمام وکمال لازم آئے گی کہ چھ ماشہ جوعفو تھا جس طرح اس کےہلاك کا اعتبار نہیں یونہی بعد ہلاك اس کا عود در کا ر نہیں صرف اس قدر چاہئے کہ شروع سال میں ایك یا زائد جتنی نصابوں کا مالك ہوا تھا، ختم سال پر وُہ نصابیں پُوری ہوں تو جس قدر زکوٰۃ کا وجوب بحالتِ استمرار ہوتا اُسی قدر پُوری واجب ہوگی اور نقصان درمیانی پر نظر نہ کی جائے، ہاں اتنا ضرور ہے کہ اصل مال سے کوئی پارہ محفوظ رہے سب با لکل فنا نہ ہوجائے ورنہ مِلك اوّل سے شمار سال جاتا رہے گا اور جس دن ملك جدید ہوگی اُس دن سے حساب کیا جائے گا، مثلًایکم محرم کو مالك نصاب ہُوا صفر میں سب مال سفر کر گیا، ربیع الاوّل میں پھر بہار آئی تو اسی مہینہ سے حول گنیں گے حسابِ محرم جاتا رہا۔درمختار میں ہے:
|
شرط کمال النصاب فی طرفی الحول فی الابتداء للانعقاد وفی الانتھاء للوجوب فلا یضرنقصانہ بینھما فلو ھلك کلہ بطل الحول۔ [1] |
سال کےدونوں اطراف میں کمالِ نصاب کی شرط ہے ابتدا ء میں انعقاد اور انتہا ء میں وجوب کے لئے، درمیانی مدّت میں کمی نقصان دہ نہیں۔ ہاں اگر سارا مال ہلاك ہوگیا تو سال باطل ہوجائے گا۔ |
ردالمحتار میں ہے:
|
فان وجد منہ شیأ قبل الحول ولو بیوم ضمہ وزکی الکل۔ [2] |
اگر کوئی شئ سال کے اختتام سے حاصل ہوئی خواہ ایك ہی دن پہلے ہو ا سے ملایا جائےگا اور تمام کی زکوٰۃادا کی جائےگی۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع