30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قیمتھما بحر اھ [1] ملخصًا واﷲتعالٰی اعلم۔ |
کو ایك دوسری جنسیت کے اعتبار سے ملایا جائے، سامانِ تجارت کو قیمت کے اعبتار سے نقدین کے ساتھ ملایا جائے، بحرا ھ ملخصًا واﷲتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ثالثہ: اگر آئندہ زیور کم ہو جائے تو کس حساب سے کمی کی جائے؟بینوا توجروا
الجواب:
زکوٰۃ صرف نصاب میں واجب ہوتی ہے، نہ عفومیں، مثلًاایك شخص آٹھ تولے سونے کا مالك ہے تو دو ماشہ سونا کہ اس پر واجب ہوا، وُہ صرف٧تولے کے مقابل ہے نہ کہ پورے آٹھ تو لے کے،کہ یہ چھ ماشے جو نصاب سے زائد ہے عفو ہے ۔ یُوں ہی اگر ١٠ تولے کا مالك ہو تو زکوٰۃ صرف ٩ تولہ یعنی ایك نصاب کامل اورایك نصاب خمس کے مقابل ہے،دسواں تو لہ معاف۔ ملتقی الابحر میں ہے :
|
الزکوٰۃ تتعلق بالنصاب دون العفو فلو ھلك بعد الحول اربعون من ثمانین شاۃ تجب شاۃ کا ملۃ اھ ٢[2] ملخصًا۔ |
زکوٰۃکا تعلق نصاب سے ہوتا ہے عفو سے نہیں،اب اگر سال کے بعد اس کی بکریوں میں سے چالیس٤٠ ہلاك ہوگئیں تو اب بھی ایك کامل بکری زکوٰۃ لازم ہوگی اھ ملخصًا۔(ت) |
درمختار میں ہے:
|
لافی عفو وھو ما بین النصب فی کل الاموال۔ [3] |
عفو میں زکوٰۃ نہیں اور یہ ہر حال میں وہ مقدار و حصّہ ہے جو نصابوں کے درمیان ہوتاہے(ت) |
پس اگر نقصان مقدارِ عفو سے تجاوز نہ کرے یعنی اُسی قدر مال کم ہوجائے جتنا عفو تھا، مثلًامثال اوّل میں ٦ ماشہ اور دوم میں ایك تولہ، جب تو اصلًاقابل لحاظ نہیں کہ اس قدر پر تو پہلے بھی زکوٰۃ نہ تھی کل واجب بمقابلہ مال باقی تھا وُہ اب بھی باقی ہے تو زکوٰۃ اسی قدر واجب ہے اور کمی نظر سے ساقط کما مثل لہ فی المنتقی (جیسا کہ منتقی میں اس کی مثال دی گئی ۔ت) اور اگر مقدار عفو سے متجاوز ہو یعنی اُس کے باعث کسی نصاب میں نقصان آئے خواہ یُوں کہ ما ل میں جس قدرعفو تھا نقصان اس سے زائد کا ہوا۔ جیسے امثلہ مذکورہ میں دو٢ تولے یا یُوں کہ ابتداءً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع