30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پر حولان حول ہوتا ہے تو رمضا ن ٨ کے لئےشوال ۷ سے دینا شروع کریں اور ختمِ سال تك بتدریج حسبِ رائے و مصلحت دیتے رہیں کہ اس میں ان کے مقاصد بھی حاصل ہوں گے اور تدریج مذموم و ممنوع سے بھی بچیں گے واﷲسبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ثانیہ: زید کے پاس زیور ہے وہ اُس کی زکوٰۃ دیتا ہے آ ئندہ کو زیور زیادہ ہو تو کس حساب سے زرِ زکوٰۃ زیادہ کیا جائے؟ بینواتوجروا
الجواب:
شریعتِ مطہرہ نے سونے کی نصاب پر کہ حوائجِ اصلیہ سے فارغ ہو خواہ وُہ روپیہ اشرفی ہو، گہنا یا برتن یا ورق یا کوئی شَے، حولان حول قمری کے بعد چالیسواں حصّہ زکوٰۃمقرر فرمایا ہے، سونے کی نصاب ساڑھے سات تو لے ہے اور چاندی کی ساڑھے باون تو لے، پھر نصاب کے بعد جو کچھ نصابِ مذکور کے پانچویں حصہ تك نہ پہنچے معاف ہے اُس پر کچھ واجب نہیں ھذا ھومذھب صاحب المذھب رضی اﷲتعالٰی عنہ وھو الصحیح کما فی التحفۃ ثم مجمع الانہر(یہی صاحبِ مذہب (امام اعظم) رضی اﷲتعالٰی عنہ کا مذہب ہے اور یہی صحیح ہے جیسا کہ تحفہ میں پھر مجمع الانہر میں ہے۔ت)جب خمس کامل ہوجائے اس پر پھر اس خمس کا چالیسواں حصہ فرض ہوگا یونہی ایك خمس سے دوسرے تك عفو اور ہر خمسِ کامل پر اس کا ربع عشر ، مثلًا ایك شخص کے پاس ٧تولے سونا اس پر ۲ ماشے سونا زکٰوۃ دیتاہے اور اگر ایك تولہ سے کم اس پر زائد ہے مثلًا ایك رتی کم ۹ تولہ ہے جب بھی وہی ۲ ماشے ٢ سُرخ واجب ہے یہ رتی کم ایك تولہ معاف ہے، ہاں اگر پورا چھ٦ماشے ایك تولہ ہے کہ خمس نصا ب ہے اور ہو تو اس کا بھی ربع عشر (۳/۵ء۳) سُرخ ،اور واجب ہو گا کل ٩ تولے پر ٦ماشے ،( ۳/۵ ء۵ )سُرخ ہے، پھر ایك تولہ پورا ہونے تك کچھ نہ بڑھے گا، جب ۱۰ تولے ٦ ماشے کامل ہو وہی(۳/۵ ء۵ )سُرخ'اور بڑھ کر ٣ ماشہ( ١/٥ء۳ ) سُرخ واجب الادا ہوگا ، وعلیٰ ہذا القیاس۔ اسی طرح جس کے پاس( ٥٣ )تولہ ٦ ماشہ چاندی ہے اس پر ١ تولہ ٣ ماشہ چاندی واجب ہے اور جب تک١٠ تولے چاندی کہ خمس نصاب ہے نہ بڑھے، یہی واجب رہے گا۔ جب( ٦٣ )تولے کامل ہوجائے تواس ١٠تولے کا (١/٤٠ )یعنی ٣ ماشہ١ (١/٥ )سُرخ، اور زائد ہو کرایك تولہ ١٠ ماشہ( ٢/٥ ) سُرخ کا وجوب ہوگا و علیہ قس۔ درمختارمیں ہے:
|
نصاب الذھب عشرون مثقالا والفضۃمائتا درھم کل عشرۃ درھم وزن سبعۃ مثاقیل و المعتبر وزنھما اداءً ووجوبًا لا قیمتھما واللازم فی مضروب کل منھما |
سونے کا نصاب بیس٢٠ مثقال اور چاندی کا دوسو٢٠٠ ایسے درھم ہے کہ ان میں سے دس١٠درہم سات ٧ مثقال کا وزن رکھتے ہوں، ان کا وزن ادا ئیگی اور وجوب میں معتبر ہے، ان دونوں کی قیمت کا اعتبار نہیں، پھر ان |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع