30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فمرادہ ان وقتہ العمرفتکون ادا ء متی ادی وان اثم بالتاخیر ومن قال بالفور اراد انہ یاثم بالتا خیر وان لم یصربہ قضاء ولا بدع فی ذلك فان الحج فوری علی الراجح مع الاجماع علی انہ لوتراخی کان اداء ونظیرہ سجدۃ التلاوۃ وجوبھا فوری عندابی یوسف ومتراخ عند محمد و ھو المختار کما فی النھر والامداد والدرالمختار واذا اداھا بعد مدۃکان مؤدیا اتفاقًا لاقاضیا کما فی النھر الفائق وغیرہ، اقول: لکن یخدش التوفیقین ما قد منا عن الخانیۃ حیث فرض المسئلۃ فی التأثیم ونص روایۃ ھشام عن ابی یوسف لا یأثم فلابدمن ابقاء الخلاف وترجیح الراجح اویقال ان ھشامًا انما سمع التراخی فنقل ھو او من روی عنہ بالمعنی علی ما فھم ولعل فیہ بُعدًایعرف وینکر فلیتدبر، واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
بات کی ہے اس کی مراد یہ ہے کہ وقتِ ادا تمام عمر ہے، تو جس وقت بھی ادائیگی کریگا زکوٰۃ ادا ہی ہو گی اگر چہ تاخیرسے گنہگار ہوگا، اور جس نے کہا"فی الفورواجب ہے"اس کی مراد یہ ہے کہ تاخیر سے انسان گنہگار ہوجاتا ہے اگر چہ تاخیر سے قضا نہیں ہوگی، اور یہ کوئی نئی بات نہیں کیونکہ حج راجح قول کے مطابق فی الفور لازم ہے، حالانکہ اس پر اجماع ہے کہ اگر کسی نے دیر کے بعد حج کیا تو ادا ہی ہوگا، اس کی نظیرسجدہ تلاوت ہے جوامام ابو یوسف کے نزدیك فی الفور اور امام محمد کے نزدیك علی التراخی واجب ہے اور یہی مختار ہے جیسا کہ نہر ، امداد اور درمختار میں ہے اگر کسی نے مدت کے بعد سجدہ کیا تو بالاتفاق ادا ہی ہوگا ،اسے قضا کرنے والا نہ کہا جائیگا ،جیسا کہ النہرالفائق وغیرہ میں ہے ۔ اقول: ان دونوں تطبیقات کو خانیہ کی سابقہ عبارت مخدوش کر دیتی ہے کہ وہاں عنوانِ مسئلہ ہی گنہگار ہونے کے بارے میں ہے، اورامام ابو یوسف سے روایت ِہشام میں گنہگارنہ ہونے کی تصریح ہے لہذا اثبات اختلاف اور ترجیح راجح ضروری ہے یا یہ کہا جائے کہ ہشام نے تراخی سنا اور اسے نقل کردیا جس نے ان سے روایت بالمعنی کی اس نے اپنی سمجھ کے مطابق نقل کر دیا، شاید اس میں بعد معلوم ہو اور اجنبی سمجھا جائے ، تو غور کرو۔واﷲتعالی اعلم (ت) |
بلکہ ہمارے بہت ائمہ نے تصریح فرمائی کہ اس(زکوٰۃ) کی ادائیگی میں دیر کرنے والا مردود الشہادۃہے، یہی منقول ہے محرر مذہب سیّدناامام محمدرحمہ اﷲتعالےٰ سے،
|
کمامرعن الفتح والخانیۃومجمع النھر ومثلہ فی خزانۃالمفتین وفی شرح النقایۃعن المحیط وفی جواھرالا خلاطی وبہ جزم فی |
جیسا کہ فتح ، خانیہ اور مجمع الانہر میں ہے۔اسی طرح خزانۃ المفتین اور شرح نقایہ میں محیط سے اورجواھرالاخلاطی میں ہے، اور اسی پرتنویر اوردر میں جزم |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع