30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یك ہی کھائے، عــــہ۱ جب زوال ہولے بلکہ اس سے پہلے کہ امام کے قریب جگہ ملے مسجد نمرہ جائے سنتیں پڑھ کر خطبہ سن کر امام کے ساتھ ظہر پڑھے اس کے بعد بے توقف عصر کی تکبیر ہو گی معًا جماعت میں عصر پڑھ لے بیچ میں سلام کلام تو کیا معنیٰ۔ ظہر کی پچھلی سنتیں بھی نہ پڑھے اور بعد عصر بھی نفل نہیں۔ یہ ظہر وعصر کی جمع جبھی جائزہے کہ نماز امام اعظم یعنی سلطان یااس کے نائب ماذون کے پیچھے ہو ورنہ عصر وقت سے پہلے باطل ہوگی۔ بعدنماز فورًا فورا موقف کو جائے۔ افضل یہ ہے کہ اونٹ پر امام سے نزدیك جبل الرحمۃ کے قریب جہاں سیاہ پتھروں کا فرش ہے روبقبلہ پس پشت امام کھڑا ہو جبکہ ان فضائل کے حصول میں دقت یاکسی کی اذیت نہ ہو ورنہ جہاں عــــہ۲ اور جس طرح ہو سکے وقوف کرے۔ اما م کی دہنی جانب بائیں اور بائیں رو برو سے افضل ہے۔ اب غایت خشوع وخضوع کے ساتھ لرزتا، کانپتا، ڈرتا،ا مید کرتا، آنکھیں بند کئے، گردن جھکائے، دستِ دعا آسمان کی طرف اٹھائے، تکبیر، تہلیل، تسبیح، حمد، درود، دعا ، توبہ، استغفار میں ڈوب جائے، کو شش کرے کہ ایك قطرہ آنسوؤں کا ٹپکے کہ دلیل اجابت وکمال سعادت ہے ورنہ رونے والوں کا سا منہ بنائے کہ مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمِ فَھُوَمِنْھُمْ (جس نے جس قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہوگا۔ ت) اثنائے دعا وذکر میں لبیك کی بار بار تکرار کرے، آج کے دن دعائیں بہت مقبول ہیں، مگر سب میں بہت
عــــہ۱:حدیث میں ہمیشہ تہائی پیٹ کھانے کو فرمایا ہے[1]ہم حریصوں سے مدام عمل نہیں ہوتا تو کاش ایام اقامت حرمین میں تواس پر عامل رہیں ورنہ جان برادر ؎
انائے کہ پرشد دگرچوں پرد
(پیٹ جب پر ہوتا ہے تو دوسرے امور ہاتھ سے جاتے رہتے ہیں)
اے عزیز۱ ہفتہ بھر اس پر عمل کر دیکھ۔ پھر اگر اگلی حالت سے کچھ فرق دیکھے ماننا ورنہ اختیار ہے زندگی ہے توکھانے پینے کے بہت دن ہیں۔ حرمین کی اقامت تو نشاط سے گزرے، جان برادر! اگر اتنا صبر بھی شاق ہے تو ۸ سے ۱۳تك خاص اعمال حج کے دن ہیں اور آٹھ دس روز مدینہ طیبہ کے کہ حضور ی مبارك کے ایام ہیں ذرانفس کی باگ کڑی کرلے ورنہ یقین جان کہ ؎
بسیار خوارست بسیار خوار
(بسیار خوری___ کثیر ذلت ہے) ۱۲منہ
عــــہ۲: یعنی بطن عُرنہ سے بچ کر وہاں وقوف محض ناجائز ہے وہ عرفات میں ایك نالہ ہے حرم محترم کے نالوں سے مسجد عرفات سے جسے مسجد نمرہ کہتے ہیں پچھال یعنی کعبہ معظمہ کی طرف ۱۲ منہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع