30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی الفتح [1] اھ۔اقول:فاذا کان ھذا ھواقضیۃ الدلیل والا لصق بمقصد الشرع الجلیل وھو الا حوط فی الدین والا دفع لکید الشیاطین والا نفع لفقراء المسلمین و قد جزم بہ المولیٰ فقیہ النفس قاضی الامّۃ وصححہ کمامر ویاتی من کبارالائمۃ و قد ثبت عن سا داتنا الثلٰثۃ مالکی الازمۃ وقد نص کثیرون ان علیہ الفتوی ومعلوم ان ھذا اللفظ اکد و اقوی فعلیہ فلیکن التعویل وا لاعتماد وان حکی التراخی ایضاعن الثلٰثۃالامجادوصححہ الباقانی والتا تارخانی بل قال المولی المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر ما ذکر ابن شجاع عن اصحابناان الزکوٰۃعلی التراخی یجب حملہ علی ان المراد بالنظر الی دلیل الافتراض ای دلیل الا فتراض لا یو جبھا وھولا ینفی وجوددلیل الایجاب [2] اھ قال العلّامۃ السید احمد المصری فی حاشیۃ الدرالمختار واختار الکمال ان الزکوٰۃ فرضیۃ وفوریتھاواجبۃ ویصلح ھذا توفیقا بین القولین [3] اھ قلت: وکان ظھرلی التوفیق بان من قال بالتراخی |
فتح میں ہےاھ اقول: جب دلیل کا معاملہ یہ ہے تو یہ مقصد شرع جلیل سے متصل اور قریب ہے اور یہی دین میں احوط اور شیاطین کے مکر کو دفع کرنے والا اور فقراء مسلمین کے لئے زیادہ نافع ہے، اسی پر ہمارے سربراہ فقیہ النفس قاضی الامّت نے جزم فرمایا اور اسکو صیح قرار دیا جس کا ذکر گزرا اور کبارائمہ سے اس کی تصیح آرہی ہے ، اور ہمارے تینوں ائمہ جو مسلك کے سر تاج ہیں سے یہی ثابت ہے، اور کثیر فقہاء نے تصریح کی ہےکہ فتوٰی اسی پر ہے، اور یہ بات مسلّمہ ہے کہ یہ الفاظ مؤکد اور قوی ہیں ، لہذا اسی پر اعتماد ہونا چاہےے اگر چہ ان تینوں بزرگوں سے تراخی بھی منقول ہے اور اسے باقانی اور تاتارخانی نے صحیح کہا ہے بلکہ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں فرمایا : ہمارے احنا ف میں سے ابن شجاع نے جو یہ کہا کہ زکوٰۃ فی الفورم لازم نہیں اسے زکوٰۃ کی فرضیت کی دلیل سے منسلك کرنا ضروری ہے یعنی فرضیت کی دلیل فی الفورادائیگی کو واجب نہیں کرتی جبکہ اس سے فوری ادائیگی کی علٰیحدہ دلیل کی نفی نہیں ہوتی ۔ علّامہ سیّداحمد مصری نےحاشیہ درمختار میں کہا کہ کمال کا مختار یہ ہے کہ زکوٰۃ فرض ہے اور فی الفور ادا کر نا واجب ہے، اس سے دونوں اقوال کے درمیان موافقت ممکن ہے اھ قلت (میں کہتا ہوں ):میرے نزدیك تطبیق یوں ہو سکتی ہے کہ جس نے تراخی کی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع