30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حدیث عــــہ۱ ۱۴: میرا علم میری وفات کے بعد ایساہی ہے جیسا میری زندگی میں۔"[1]
حدیث عــــہ۲ ۱۵: میری حیات وممات دونوں تمھارے لیے بہتر ہیں، تمھارے اعمال میرے حضور پیش کئے جاتے ہیں میں نیکیوں پر شکرکرتا ہوں اور برائیوں پر تمھارے لیے استغفار فرماتا ہوں [2]۔
حدیث عــــہ۳ ۱۶: بیشك الله تعالیٰ نے زمین پر پیغمبروں کا جسم کھانا حرام کیا ہے تو الله کا نبی زندہ ہے اور روزی
|
عــــہ۱: اخرجہ الاصبھانی وابن عدی فی الکامل عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۱۲ منہ (م) عــــہ۲:رواہ الحارث فی مسندہ وابن سعد فی طبقات والقاضی اسمٰعیل بسند صحیح عن بکر بن عبد اﷲ المزنی التابعی الثقۃ مرسلا والبزار مثلہ باسناد صحیح عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۱۲ منہ غفرلہ (م) عــــہ۳:صدرالحدیث ان اﷲ حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء [3] اخرجہ الائمۃ احمد وابوداؤد و النسائی وابن ماجۃ و الحاکم والدارقطنی وابن خزیمۃ وابن حبان وابو نعیم وغیرہم عن اوس بن اوس رضی اﷲ تعالٰی عنہ وصححہ ابنا خزیمۃ وحبان و الدارقطنی وحسنہ عبدالغنی والمنذری وقال ابن دحیہ انہ صحیح محفوظ بنقل العدل عن العدل اھ واخرجہ الطبرانی |
اسے اصبہانی اور ابن عدی نے کامل میں حضرت انس رضی الله تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ۱۲ منہ (ت) حارث نے اپنی مسند میں اور ابن سعد نے اپنی طبقات میں اور قاضی اسمعیل نے بسندصحیح بکر بن عبدالله المزنی التابعی الثقۃ سے مرسلا اور ایسے ہی صحیح اسناد کے ساتھ بزار نے عبدالله بن مسعود رضی الله تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ۱۲ منہ غفرلہ (ت) حدیث کا ابتدائی حصہ یہ ہے الله تعالیٰ نے حرام فرمایا ہے زمین پر کہ وہ انبیاء کے اجسام کو کھائے۔ اس کو ائمہ کرام ابوداؤد، ابن ماجہ ، حاکم، دارقطنی، ابن خزیمہ، ابن حبان، وابو نعیم وغیرہم نے اوس بن اوس رضی الله تعالیٰ عنہ سے تخریج کیا ہے اور اس کو ابن خزیمہ،ابن حبان اور دارقطنی نے صحیح کہا ہے اور عبدالغنی او رمنذری نے اس کو حسن کہا ہے اورابن دحیہ نے کہاکہ یہ صحیح محفوظ ہے اور ا س کے تمام راوی عادل ہیں، اور طبرانی اور بیہقی نے ابوھریرہ سے اور ابن عدی(باقی برصفحہ آئندہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع