30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسے کوئی کام نہ ہو میری زیارت کے سوا۔ امام ابن الہمام فرماتے ہیں میرے نزدیك افضل یہ ہے کہ سفر خاص بقصد
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) والبیھقی وابن الجوزی عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
حاضر ہو (اس کی ابن ابی الدنیا، بہیقی اور ابن جوزی نے حضرت انس رضی الله تعالیٰ عنہ سے تخریج کی۔ ت) |
چوتھی حدیث میں ہے:
|
قصدنی فی مسجدی [1]۔ اوردہ فی جذب القلوب۔ |
میرا قصد کرکے میری مسجد میں آئے (اسکو جذب القلوب میں ذکر کیا گیا ہے۔ ت) |
اقول: علاوہ بریں وہ تمام احادیث جن میں زیارت قبر شریف کی ترغیب وتاکید اور اس کے ترك پر وعید و تہدید ہمارے مدعا کی گواہ وشہید، طرفہ بات یہ ہے کہ شارع صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم جس امر کی طرف تاکید بلائیں اور اس کے ترك پر وعید فرمائیں اس کا قصد ناجائز قرار پائے۔ رسول الله صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:انماا لاعمال بالنیات [2]۔(تمام اعمال کا مدار نیتوں پر ہے۔ ت) یہ عجب کار ثواب ہے جس کی نیت موجب عذاب ہے لاحول ولاقوۃ الا باﷲ۔
رہی حدیث "لا تشد الرحال"ائمہ دین نے تصریح فرمائی ہے کہ وہاں ان تینوں مسجدوں کے سوا اور مسجد کے لیے بالقصد سفر کرنے سے ممانعت ہے ورنہ زنہار الفاظ حدیث طلب علم واصلاح مسلمین وجہاد واعداءو نشر دین وتجارت حلال وملاقات صالحین وغیرہا مقاصد کے لیے سفر سے مانع نہیں۔ اور قاطع نزاع یہ ہے کہ بعینہٖ یہی حدیث بروایت حضرت ابو سعید خدری رضی الله تعالیٰ عنہ امام احمد رحمہ الله تعالیٰ نے اپنی مسند میں بسند حسن یوں روایت کی:
|
لا ینبغی للمطی ان تشد رحالہ الٰی مسجد تبتغی فیہ الصلٰوۃ غیر المسجد الحرام والمسجد الاقصیٰ و مسجدی ھذا [3]۔ |
ناقہ کو سزا وار نہیں کہ اس کے کجاوے کسی مسجد کی طرف بغرض نماز کسے جائیں سوائے مسجد حرام ومسجد اقصٰی اور میری مسجد کے۔ |
تو خود حضور صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم کے ارشاد سے حضور کی مراد واضح ہوگئی والحمد لله رب العٰلمین ۱۲ منہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع