30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
م: وفی منیٰ لاتترکن الاضحیۃ کذاصلٰوۃ العید مع الحسن النیۃ
ت:اور منیٰ میں عید کی قربانی نہ چھوڑ، یو نہی عید کی نماز نیك نیت ہے۔
ف: ہمارے نزدیك نماز عید وقربانی دونوں مقیم مالدار پر واجب ہیں اور شافعیہ سنت کہتے ہیں، لہذا مصنفِ علام نے اپنے مذہب کے موافق انھیں سنن میں گنا، مگر یہاں واجب التنبیہ یہ بات ہے کہ ہمارے علماء ذخیرہ ومحیط وغیرہما میں تصریح فرماتے ہیں کہ منیٰ میں نماز عید اصلًا نہیں کہ وہاں لوگوں کو امور حج سے فرصت نہیں ہوتی۔ علامہ ابراہیم حلبی نے فرمایا: ہاں بالاتفاق نماز عید نہ پڑھے۔ علامہ علی قاری نے فرمایا: اس پر تمام علمائے امت کا اجماع ہے کذا فی ردالمحتار [1]فافھم واﷲ تعالٰی اعلم(جیسا کہ ردالمحتار میں ہے لہذا غور کیجئے۔ والله تعالٰی اعلم۔ ت)
وہی قربانی وہ مذہب راجح میں مقیم پرواجب ہے جیسے اہل مکہ ومنیٰ اگر چہ احرام میں ہوں، اور مسافر سے تو اس کا مطالبہ ہی نہیں۔
م: وسنۃ فی فعلھا الثواب لیس علی تارکھا العقاب
ت : اور سنت کے کرنے میں ثواب ہے چھوڑنے میں عذاب نہیں۔
ف: مگر سنن موکدہ کے ترك میں سخت ملامت ہوگی، اور عیاذ بالله شفاعت سے محرومی بھی وارد۔ بلکہ محققین فرماتے ہیں ان کے ترك میں تھوڑا ساگناہ عــــہ۱بھی ہے اگر چہ نہ ترك واجب کے برابر ۔ ا نہی وجوہ سے سنت کو مستحب سے امتیازہے ورنہ جتنی بات متن میں گزری مستحب کو بھی شامل۔
م: وانما یؤاخذ المرء علی اھمال فرض قد اتّٰی مفصلا
ت:یوں ہی ہے کہ آدمی پر مواخذہ فرض چھوڑنے میں ہے جو بتفصیل وارد ہوا۔
ش: یعنی جس کے ثبوت میں کوئی جمال واشکا ل نہیں توصف عــــہ۲ کا شفہ ہے کہ فرض سب ایسے ہوتے ہیں اور بقرینہ سباق ظاہر کہ مواخذہ سے مراد عذاب ہے ورنہ ملامت کہ ترك سنن پر ہوگی خود گرفت وموخذا ہے۔
|
عــــہ۱: من اراد تحقیق ذٰلك فعلیہ بالبحرا لرائق وردالمحتار وغیرھما من الاسفار ۱۲ منہ (م) عــــہ۲: یمکن ان یراد بہ مااتی ای سبق بیانہ مفصلا فعلی ھذایکون اشارۃ الی فروض الحج المارۃٰ فی الواجبات علی مذھب المصنف لکن الذی یعطیہ سوق الکلام ان المقصود بیان حکم السنۃ والفرض مطلقا فلذا مطلقا فلذا فسرناہ بما فسرنا ۲ ۱منہ (م) |
جو اس کی تحقیق چاہتا ہے اسے چاہئے کہ وہ بحرالرائق و ردالمحتار وغیرہ کتب کو دیکھے ۱۲ منہ (ت) ممکن ہے اس سے مراد و ہ ہو جو مفصلا گزراہے اس بناء پر حج کے ان فرائض کی طرف اشارہ ہوگا جو مصنف کے مذہب کے مطابق واجبات میں گزرا لیکن سوق کلام جو مستفاد ہورہا ہے وہ یہ ہے کہ یہاں مطلق سنت اور فرض سےکا حکم بیان کرنا مقصود ہے اسی لیے ہم نے مذکورہ تفسیر کی ہے ۱۲ منہ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع