30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اضطباع ساقط ہوگیا۔
ف: اضطباع طواف میں ہوتا ہے اور رمل صرف اگلے تین پھیروں عــــہ میں، باقی چار میں اپنی چال، اور ہجوم کے سبب رمل میں اپنی یا اور کی ایذا ہوتو رك رہے۔ جب غول نکل جائے پھر رمل کرتاچلے۔
ف: ہر طواف کے بعد دو رکعتیں ہمارے نزدیك سنت نہیں بلکہ واجب ہیں۔
م: و رکعتا الاحرام ثم الغسل لہ وفی جھر الملبّی فضل
ت: او را حرام کی دورکعتیں پھر اس کے لیے نہانا اور لبیك کے بآواز کہنے میں فضیلت ہے۔
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) العلامۃ الخیر الرمل قال ولم ارہ صریحا و ان علم فی اطلاقھم [1] اھ رد المحتار اقول: لا کلام فی جوازہ قد صرحوا ان لاتوقیت و انما الکلافی انہ یومر بایقاع السعی بعد طواف الْصدور ولوند باولعل الوجہ فیہ ان یقع سعیہ متصلا بالطواف کما ھوا لمستحب لکن یعارضہ مستحب اٰخر وھوان لایکون بین طوافہ للصدر ونفرہ من مکہ حائل کما نصوا علیہ وقد اوجب ذالك الامام الشافعی ویوافقہ روایۃ عن ابی یوسف والحسن بن زیاد رحمھم اﷲ تعالٰی فتا کدالاستحباب خروجا عن الخلاف فافھم واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم ۱۲ منہ |
سعی ہو اس کا افادہ علامہ خیر الدین رملی نے کیا اور فرمایا اور میں نے صراحۃً یہ دیکھا کہ نہیں اگر چہ فقہاء کے اطلاقات سے معلوم ہوسکتا ہے اھ ردالمحتار اقول: اس کے جوا ز میں کوئی کلام نہیں ہے جبکہ وہ تصریح کرچکے ہیں کہ اس میں وقت مقرر نہیں۔ اس میں ضرور کلام ہے کہ کیا طواف وداع کے بعد سعی کا استحبابًا بھی حکم ہے۔ہوسکتا ہے کہ وجہ یہ ہو کہ طواف کے بعد متصل سعی ہوجائے تو مستحب ہے لیکن یہاں ایك دوسرا مستحب اڑے آرہاہے وہ یہ کہ طواف وداع اور کوچ کرنے میں کوئی چیز درمیان میں حائل نہ ہو جیسا کہ فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے جبکہ امام شافعی اس کو واجب قرار دیتے ہیں اور اس کی موافقت ابو یوسف اور حسن بن زیاد کی روایت بھی کرتی ہے تو فورًا بعد میں روانہ ہونے کا استحباب واضح ہوگیا، اس کو سمجھو، والله سبحانہ وتعالیٰ اعلم۱۲منہ(ت) |
عــــہ: یہاں تك کہ اگر اول پھیروں میں بھول گیا تو بھی ان چار میں اور اگر پہلے پھیرے میں یاد نہ رہا تو دو ہی میں کرے اور دو میں بھولا تو ایك ہی میں ۱۲ منہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع