30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مروہ میں سعی اور اس کا ایك طواف کامل عــــہ۱ کے بعد صفا سے شروع اور سات پھیرے اور ہر بار پوری مسافت قطع اور بشرط قدرت پیادہ ہونا، دن میں عــــہ۲ وقوفِ عرفہ کرنے والے کو غروبِ شمس کے بعد تك اتنظار کرنا، ا س کا امام عــــہ۳ کے ساتھ عرفات سے کوچ کرنا یعنی امام کے چلنے سے پہلے حدود عرفہ سے باہر نہ ہونا بشرطیکہ امام وقت عــــہ۴ پرکوچ کرے اور ہمراہی میں حرج نہ ہو، جمرۃ العقبیٰ کی رمی کہ دہم کو ہے حلق سے پہلے ہونا، ہر دن کی رمی اسی دن ہوجانا، حلق یا تقصیر اور ان کا ایام نحر میں خاص زمین میں ہونا، طواف فرض کا بارھویں عــــہ۴ تك ہوجانا حجر اسود سے شروع ہونا، ساتھ پھیرے حطیم سے باہر باوضو ستر عورت کے ساتھ، بشرط قدرت پیادہ، اپنی دہنی طر ف سے آغاز ہونا یعنی کعبہ معظمہ بائیں ہاتھ کو رکھنا، قارن عــــہ۵ ومتمتع کا شکر کی قربانی حلق سے پہلے رمی کے بعد ایام نحر میں کرنا وغیر ذالک۔ والله تعالٰی اعلم۔
عــــہ۱:طواف کامل یہ ہے کہ شرائط صحت کو جامع اور جنابت وحیض سے پاك ہو عام ازیں کہ فرض ہو جیسے طواف زیارت یاواجب جیسے طواف الوداع کما سیأتی(جیسا کہ آگے آئیگا۔ ت)یا سنت جیسے طواف القدوم یا نفل جیسے متمتع حج کی سعی طواف زیارت سے پہلے کرنی چاہئے تو ایك طواف نفل کرکے ادا کرے۔ اس کے سواکامل کے یہ معنٰی نہیں کہ ساتویں پھیروں کے بعد ہو بلکہ چار کے بعد ہونا کافی ہے۔ سعی صحیح اور واجب ادا ہوجائیگا، اگر چہ سنت یونہی ہے کہ ساتویں پھیروں کے بعد کرے، ہاں اگر چہ پھیروں سے پشتر کی توسعی ادا نہ ہوگی اور طواف کے بعد سے بعدیت متصلہ مراد نہیں اگر چہ مستحب فورًاہوتا ہے مگر پہلے طواف ہولیا تو پھر جب کبھی سعی کریگا صحیح ہوگی ۱۲ منہ )
عــــہ۲:یہ قید اس لیے لگادی کہ جونویں تاریخ وقت نہ کرسکا ہو ا ور دسویں شب کو کرے اس پر کچھ واجب نہیں ایك لمحہ کے لیے زمین عرفات میں گزر جانا کافی ہے کہ فرض اسی قدر ہے ۱۲ منہ)
عــــہ۳: اس کا اس لیے کہا جور ات کو وقوف کرے اس پر امام کے ساتھ کوچ بھی واجب نہیں کہ امام تو اس کے آنے سے پہلے جاچکا ۱۲منہ)
عــــہ۴: یعنی اگر امام نے ترك واجب کرکے غروب سے پہلے کو چ کردیا تو ساتھ نہ دیں یونہی اگر غروب کے بعد اس نے دیر کی یہ روانہ ہوجائیں ۱۲ منہ)
عــــہ۵: یعنی اس کے چار پھیرے جو فرض ہیں بارھویں تك ہو گئے تو واجب ادا ہولیا اگر چہ باقی تین پھر کبھی ہوں، ہاں سنت یونہی ہے کہ پورا طواف انہی دنوں میں ہولے بلکہ ساتوں پھیرے ایك ساتھ ہو ۱۲ منہ )
عــــہ۶: مفرد کو یہ قربانی مستحب ہے ۱۲ منہ غفرلہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع