30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وکذاعن ابی یوسف وعن محمد ترد شھادتہ بتا خیر الزکوٰۃ حق الفقراء فقد ثبت عن الثلثہ وجوب فوریۃالزکوٰۃ [1]اھ مخلصا۔ |
امام ابو یوسف سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ امام محمد فرماتے ہیں کہ تا خیرِ زکوٰۃ کی وجہ سے گواہی مرد ود ہوجائیگی کیونکہ زکوٰۃ فقراء کا حق ہے، تو تینوں بزرگون سے یہ ثابت ہُوا کہ زکوٰۃ کی ادائیگی فی الفورم لازم ہوتی ہے اھ مخلصًا(ت) |
فتاویٰ امام قاضی خاں میں ہے:
|
ھل یأثم بتأخیر الزکوٰۃ بعدالتمکن ذکر الکرخی انہ یأثم وھکذ ا ذکر الحاکم الشھید فی المنتقی وعن محمد ان من اخر الزکوٰۃ من غیر عذرلا تقبل شہادتہ وروی ھشام عن ابی یوسف لایأثم [2] اھ ملخصا۔ قلت: فقد قدم التاثیم و ما یقدمہ فھوالراجح الاظھر الاشھر عند ہ کما نص علیہ بنفسہ ویکون ھو المعتمد کما صرح بہ الطحطاوی و الشامی وغیرہماوکذاقدمہ فی الھدایۃوالکافی۔ |
آدمی قدرت کے بعد تا خیر زکوٰۃ کی وجہ سے گنہگار ہو گا یا نہیں؟ امام کرخی نے فرمایا: گنہ گار ہوگا۔اسی طرح حاکم شہید نے منتقی میں ذکر کیا ہے۔ امام محمد سے مروی ہے کہ جس شخص نے بغیر عذر زکوٰۃ کو مؤخر کیا اس کی شہادت قبول نہیں کی جائے گی۔ ہشام نے امام ابُویُوسف سے نقل کیا کہ وُہ گنہگار نہ ہوگا اھ ملخصًا۔ قلت:(میں کہتا ہوں کہ)گنہگار ہونا (امام ابویوسف کے حوالے سے) پہلے ذکر کیا ہے اور وہی قاضی خاں کے ہاں راجح، اظہر اور اشہر ہے ، جیسا کہ اس پر خود انہوں نے تصریح کی ہے ، اور یہی معتمد ہے ، جیسا کہ اس پر طحطاوی، شامی اور دیگر لوگوں نے تصریح کی ہے ، اسی طرح ہدایہ اور کافی میں اسی کو مقدم رکھا ہے(ت) |
فتاوی عالمگیر یہ میں ہے :
|
تجب علی الفور عند تمام الحول حتی یأثم بتاخیرہ من غیر عذر وفی روایۃ الرازی علی التراخی حتی یأثم عند الموت والا ول اصح |
سال پورا ہونے پر زکوٰۃ فی الفورم لازم ہوجاتی ہے حتیّٰ کہ بغیر عذر تاخیر سے گناہ ہوگا، رازی کی روایت کے مطابق فی الفور لازم نہیں (حتیّٰ کہ مؤخر کرنے سے گناہ نہ ہوگا)البتّہ اسی حالت میں موت آگئی تو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع