30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ف: ہمارے نزدیك احرام فرض ہے کما سَبَقَ (جیسا کہ پیچھے گزرا۔ ت) ہاں ۱اس کامیقات عــــہ۱ سے ہونا واجب ہے۔
ش: منیٰ ایك بستی ہے مکہ معظمہ سے عرفات کی طرف تین کوس، وہاں تین جگہ ستون بنے ہیں انھیں جمارد جمرات کہتے ہیں اور ہر ایك جمرہ۔ دسویں تاریخ سے ان پر کنکریاں مارتے ہیں اورت منیٰ سے تین کوس مزدلفہ ہے نویں شام کو عرفات سے پلٹ کر یہاں رات گزارتے ہیں دسویں کو منیٰ آتے ہیں۔ شافعیہ کے نزدیك رات کا بڑا حصہ یہاں بسر کرناواجب ہے، اسی لیے عــــہ۲ جنابِ مصنف سونا فرمایاورنہ حقیقۃً سونے کا حکم کچھ نہیں۔
ف: ہمارے نزدیك واجب صرف اس قدر ہے کہ ۲مغرب وعشاء یہیں پڑھے ۳صبح کو کچھ دیر وقوف کرے، باقی رات کورہنا واجب نہیں سنت ہے۔
م: ثم المبیت بمنیٰ للرمی ثم الطواف للوداع ینوی
ت: پھر رات کو ۴منی جمارکے لیے رہنا پھر ۵طواف رخصت کی نیت کرے
ف: منی میں دسویں، گیارھویں، بارھویں دن رمی جمار واجب ہے،شب باشی ہمارے نزدیك سنت ہے اور طواف وداع کہ رخصت کے لیے کرتے ہیں آفاتی یعنی باہروالے پر واجب ہے مکی تو دس دن کا ساکن ہے نہ کہ رخصت ہونے والا۔
ف: یہاں تك ہمارے مذہب کے پانچ واجب گزرے اور ان کے سوا اور بہت ہیں مثلًا صفا
عــــہ۱: لوگ تین قسم ہیں، ۱ٍاہل حرم جو مکہ معظمہ یا اس کے گرد ان مقاموں میں رہتے ہیں جہاں تك شکار وغیرہ حرام ہے۔۲اہل حل جو حرم سے باہ رمواقیت کے اندر ہیں، ۳اہل آفاق جو مواقیت سے بھی باہر ہیں آفاقیوں کے لےے حج و عمرہ دونوں کی میقات انھیں مواقیت کے جیسے ہندیوں کے لےے محاذات لمیلم، اہل حل کی میقات حل ہے یعنی جب حج یا عمرہ کو جائیں حرم میں پہنچنے سے پہلے احرام باندھ لیں اور اہل حرم کے لےے میقات حج حرم سے یعنی مسجد الحرام شریف خواہ اپنے گھر ہی سے، غرض حرم کی کسی جگہ سے احرام کریں اور عمرہ کے لےے حل یعنی حرم سے باہرجاکر عمرہ کا احرام باندھیں ۔)
ف: مکی کے لیے احرام و عمرہ میں افضل تنعیم ہے کہ مدینہ طیبہ کی طرف تین کوس پر ہے،یونہی جب حجاج حج سے فارغ ہوکر مکہ میں چند روز ٹھہریں وہیں سے عمرہ لائیں کہ نزدیك بھی ہے اور افضل بھی ۔والله تعالیٰ علم ۱۲منہ۔ عــــہ۲: دفع دخل مقدر۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع