30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ بعینہٖ احرا م ہے یعنی دل سے قصد اور اس کے ساتھ زبان سے ذکر خدا، دوسرے طوافِ رکن میں نیت طواف کہ وہ فرض ہے اور بے نیت عــــہ۱ ادا نہیں ہوتا تو ا س کی نیت بھی شرط ٹھہری۔
حج کے فرض
ف: یہ فصل جنابِ مصنف نے نہ لکھی، ہمارے نزدیك رکن کے سوا اور بھی فرض ہیں اور واجبات الگ، لہذا اپنے طور پر بیان کرتے ہیں، حج میں دس فرض ہیں: ۱احرام، ۲وقوف، ۳طواف کے چار عــــہ۲ پھیرے، ۴ان میں طواف کی نیت، ۵ وقوف کا عرفات میں ہونا، ۶اپنے وقت میں ہونا کہ زوال عــــہ۳ عرفہ سے فجر نحر تك ہے۔ ۷طواف کا مسجد الحرام میں ہونا، ۸اپنے وقت میں ہونا کہ فجر نحر سے آکر عمر تك ہے۔ ۹فرضوں میں ترتیب کہ پہلے احرام عــــہ۴ ہو پھر وقوف پھر طواف، ۱۰ وقوف سے پہلے جماع عــــہ۵سے بچنا، ان دس۱۰ میں سے ایك بھی رہ جائے تو حج نہ ہو والعیاذ باللہ۔
واجبات الحج
حج کے واجب
م: الرمی للجماد والاحرام کذا بمزدلفۃ المنام
ت: جمروں پر سنگریزے مارنا اور احرام، ایسا ہی مزدلفہ میں سونا۔
عــــہ۱: یہ اس لیے کہ دیا کہ وقوف عرفہ بھی فرض بلکہ رکن اعظم ہے پر وہ بے نیت بھی ادا ہوجاتا ہے توا س کی نیت شرط نہیں ہوسکتی ۱۲منہ۔عــــہ۲:ہر طواف میں سات پھیرے ہوتے ہیں یونہی اس طوافِ فرض میں بھی، مگر ان سے فرض فقط چار ہیں، انہی کے اعتبار سے اسے طواف فرض کہا جاتا ہے۔ باقی تین واجب ہیں نہ کیے تو دم دے گا، حج ہوگیا۔ اور چار سے کم کیے تو حج ہی نہ ہوا ۱۲ منہ
عــــہ۳: نویں تاریخ دوپہر ڈھلے سے دسویں پو پٹھے تك اس بیچ میں وقوف کا وقت ہے۔ اگر زوال عرفہ سے پہلے وقوف کرکے حدود عرفات سے باہر ہوگیا اور وقت میں اعادہ نہ کیا یا پہلے نہ کیا تھا صبح نحر چمکنے کے بعد کیا تو حج نہ ہوگا ۱۲منہ
عــــہ۴: اس فرض کو تین فرض کہہ سکتے ہیں احرام کا وقوف سے پہلے ہونا ایك ، طواف پر تقدم دو، وقوف کاطواف سے پیشتر ہونا تین ۱۲ منہ۔عــــہ۵: جماع سے بچنا ہمیشہ حج میں واجب ہے جب تك مطلقًا طوافِ فرض سے فارغ نہ ہوجائے پر وقوف تك احتراز فرض ہے کہ ا س سے پہلے جماع موجب فساد ہوتا ہے پھر فساد نہیں کما مر ۱۲ منہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع