30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
م: للحج ارکان تعد ستۃ لابد ان تحفظھن البتۃ
ت: حج کے چھ رکن ہیں ضرور ہے کہ تو انھیں یاد کرے جزمًا
م: فنیۃ الحج اول الصفۃ ثم الوقوف معھم بعرفۃ
ت: پس نیت حج کی ساری ترکیب میں پہلے ہے پھر حاجیوں کے ساتھ عرفہ کے دن وقوف کرنا۔
ش: اس وقوف کے لیے جس طرح دن مقرر ہے یعنی عرفہ عــــہ۱ کہ ذی الحجہ کی نویں تاریخ ہے یو نہی مکان بھی معین ہے یعنی عرفات کہ مکہ معظمہ سے پورب کو نوکوس ہے۔ تو مصنف کا فرمانا کہ حاجیوں کے ساتھ وقوف کرنا وہ اس سے تعیین مکان کی طرف اشارہ فرماتے ہیں جہاں حجاج ٹھہرتے ہیں وہاں ٹھہرنا ورنہ وقوف میں اوروں عــــہ۲ کے سا تھ ہونا ضرور نہیں۔
م: ثم طواف ثم سعی بالصفا والحلق والترتیب فیما وصفا
ت: پھر طواف زیارت پھر صفا مروہ میں دوڑتا اور سر منڈانا اور ان افعال میں ترتیب۔
ش: یعنی پہلے نیت پھر وقوف پھر طواف پھر سعی، لیکن طواف وحلق میں ترتیب ضرور نہیں، اور حلق سے مراد عام ہے سرمنڈانا یا بال کترانا، ہاں منڈانا افضل ہے۔
ف: ہمارے نزدیك رکن حج کے صرف عــــہ۳ دو ہیں، سب میں بڑارکن وقوفِ عرفہ، اس کے بعد طوافِ زیارت باقی نیت شرط ہے اور فرائض میں ترتیب فرض اور سعی وحلق واجب۔
م: ھٰذہ کذا للعمرۃ الارکان سوی الوقوف ھٰکذا البیان
ت: یونہی یہ چیزیں عمرہ کی رکن ہیں سوا وقوف کے اسی طرح بیان چاہیے ۔
ف :ہمارے ہاں رکن عمرہ صرف طوف ہے او رنیت شرط اور سعی وحلق واجب۔
ف:یہ نیت کہ حج وعمرہ میں شرط مانی گئی اس کے دو معنی ہیں ایك تو شروع میں حج یا عمرہ کا عزم
عــــہ۱: آگے شرح میں آتا ہے کہ وقوف کا وقت عرفہ کے دوپہر ڈھلے سے دسویں کی طلوع فجر تك ہے مگر یہ رات نویں تاریخ ہی کی رات گنی جاتی ہے، علماء نے فرمایا راتیں ہمیشہ آنے والے دن کے تابع ہوتی ہیں، مثلا جمعہ کی رات وہ ہے جس کی صبح کو جمعہ ہو، پر ایامِ حج کی راتیں گزرے دنوں کی تابع ہیں مثلًا شب عرفہ وہ رات ہے جو نویں تاریخ کے بعد آئے گی اور شبِ نحر دسویں کے بعد ۱۲ منہ
عــــہ۲: دفع دخل مقدر ۱۲ منہ)
عــــہ۳: ان کے سوا احرام میں بھی باآنکہ شرط ہے کئی مشابہتیں رکن کی ہیں کما بینہ فی ردالمحتار اقول ولی فی اکثر ھن کلام بینتہ علٰی ھامشہ ۱۲منہجیسا کہ ردالمحتار میں بیان کیا ہے، میں کہتا ہوں کہ ان میں سے اکثر میں میری کلام ہے جو میں نے اس حاشیہ میں بیان کی ہے۔ ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع