30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وھو فی ملکہ۔ ١[1] |
کی ملکیت پر سال گزرے۔ (ت) |
تو ابھی شرع اس سے تقاضا ہی نہیں فرماتی، یکمشت دینے کا مطالبہ کہاں سے ہوگا، یہ پیشگی دینا تبرع ہے ولا جبر علی المتبرع وھذاظاھر جدّا(نفلًا دینے پر جبر نہیں اور یہ نہایت ہی واضح ہی ۔ ت ) اور اگر سال گزر گیا اور زکوٰۃ واجب الادا ہو چکی تو اب تفریق و تدریج ممنوع ہوگی بلکہ فورًاتمام و کمال زر واجب الادا ادا کرے کہ مذہبِ صحیح و معتمدو مفتی پر ادائے زکوٰۃ کا وجوب فوری ہے جس میں تا خیر باعثِ گناہ۔ ہمارے ائمہ ثلٰثہ رضی اﷲتعالٰی عنہم سے اس کی تصریح ثابت۔
|
رواہ الفقیہ ابو جعفر عن الامام الاعظم و ذکرہ ابو یوسف فی الامالی کما فی الخلاصۃ وفی منتقی الامام ابی عبداﷲ محمد بن عبداﷲالحاکم الشھید رحمہ اﷲتعالٰی علی ما نقل القھستانی عن المحیط انہ علی الفور عند ھما وعن محمد لا تقبل شھادۃ من اخّر، [2]فھذاظاھر فی انہ ھو المذھب المروی عن الشیخین فی ظاھر الروایۃ۔ |
یہی فقیہ ابو جعفر نے امامِ اعظم سے روایت کیا، امام ابویوسف نے اسے امالی میں ذکر کیا جیسا کہ خلاصہ میں ہے اور امام ابوعبداﷲمحمدبن عبداﷲالحاکم الشہید رحمہ اﷲتعالٰی کی منتقی میں ہے جیسا کہ قہستانی نے محیط سے نقل کیا ہے وُہ یہ ہے کہ شیخین کے نزدیك ادائیگی زکوٰۃ علی الفورلازم ہوجاتی ہے، اور امام محمد سے ہے کہ جس نے ادائیگی میں تاخیر کی اس کی شہادت قبول نہ ہوگی۔ یہ بات اس بارے میں واضح ہے کہ شیخین سے یہی مذہب ظاھرالرویۃ میں مروی ہے۔(ت) |
فتح القدیرمیں ہے :
|
یلزم بتاخیرہ من غیرضرورۃ الاثم کما صرح بہ الکرخی والحاکم الشھید فی المنتقی، وھو عین ما ذکرہ الفقیۃ ابو جعفر عن ابی حنیفۃرضی اﷲ تعالٰی عنہ انہ یکرہ ان یؤخر ھا من غیر عذرفان کراھۃ التحریم ھی المحمل عنداطلاق اسمھا عنھم |
بغیر مجبوری کے تاخیر سے گناہ لازم آتا ہے جیسا کہ امام کرخی اور حاکم شہید نے المنتقی میں تصریح کی ہے۔ یہ بعینہٖ وہی بات ہے جس کا تذکرہ فقیہ ابوجعفر نے امام ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالےٰ عنہ سے کیا ہے کہ بغیر عذر ادائیگی کو مؤخر کرنا مکروہ تحریمہ ہے کیونکہ جب کر اہت کا ذکر مطلقًا ہو تو اس وقت وہ مکروہِ تحریمی پر محمول ہوتی ہے ، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع