30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
"م"سے مراد متن ہے اور "ت"ترجمہ"ش"شرح"ف"فائدہ عــــہ۱ ۔واﷲنسأل التوفیق، منہ الوصول الٰی سواء الطریق (اور اﷲتعالٰی سے ہی ہم توفیق کا سوال کرتے ہیں اور اسی کے کرم سے صراط مستقیم تك رسائی ہے۔ت)
م:مقدّمۃ فی وُجوب حجّۃِ الاسلام
ت: حجِ عــــہ۲ اسلام کے واجب ہونے میں۔
ش: یعنی حج کب واجب ہوتا ہے اور اس کے وجوب کے لئے کیا کیا شرطیں درکار ہیں۔
م: شروطھا التکلیف والاسلام والعقل والحریۃ والتمام
ت: شرطیں اس کے مکلّف مسلمان عاقل ہونا اور پُوری آزادی۔
ش: یعنی شرائط وجوب حج کہ جب وُہ جمع ہوں حج فرض ہوجائے اور ان میں سے ایك بھی فوت ہوتو نہیں ،
پانچ ہیں :
۱اول: بلوغ : کہ بچّے پر فرض نہیں، کرے عــــہ۳ گا تو نفل ہوگا اور ثواب اسی کے لئے ہے۔ باپ عــــہ۴ وغیرہ مربّی تعلیم وترتیب کا اجر پائیں گے۔پھر بعد بلوغ شرطیں جمع ہوں گی اس پر حج فرض ہوجائے گا، بچپن کا حج کفایت نہ کریگا۔
۲دوم:اسلام : کہ کافر پر ایمان لانے کے سوا کوئی عبادت فرض نہیں، نہ اُس کے ادا کیے ادا ہوسکیں، جب مسلمان ہوگا تو سب احکام اس کی طرف متوجہ ہونگے۔
سوم ۳:عقل ، کہ مجنون ومعتوہ پر فرض نہیں۔ معتوہ وہ جس کے ہوش وحواس درست نہ ہوں، بہکی بہکی باتیں کرے، رائے میں فساد ہو، پھر اس عــــہ۵ کے ساتھ مارے، گالیاں دے تو مجنون ہے۔
عــــہ۱: "ف"وہاں آئی جہاں کوئی تازہ بات لکھی یا قولِ متن پر کچھ کلام کیا یا مذہب ِ حنفیہ کا خلاف بتایا۱۲منہ)
عــــہ۲:حجِ اسلام حجِ فرض کو کہتے ہیں یعنی پہلا حج کہ مکلف اداکرے ۱۲منہ )
عــــہ۳:قیدِ عقل خود مفادِ عبارت ہے ظاہرہے کہ اُس کا حج کرنا جبھی کہیں گے کہ اتنی سمجھ رکھتا ہواور بے سمجھ بچّے کی عبادت کچھ معتبر نہیں، نہ وُہ فرض ہو نہ نفل واﷲتعالیٰ اعلم ۱۲منہ )
عــــہ۴: یعنی یہ جو عوام میں مشہور ہے کہ بچّوں کی عبادت کا ثواب ماں باپ پاتے ہیں اُنہیں نہیں ہوتا، غلط ہے، بلکہ عبادت کا ثواب اِنہیں اور تعلیم کا اُنہیں ۱۲منہ۔)
|
عــــہ۵ : ھذا احسن ماقیل فی الفرق بینھما شامی عن البحر ۱۲منہ (م) |
دونوں میں فرق کی بابت اقوال میں سے یہ احسن ہے، یہ شامی نے بحر سے نقل کیا ہے(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع