30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وصول کی ہے لہذا اس روپے پر زکوٰۃ دی جائے یا نہیں؟
(٤) زید نے پانچ سو روپیہ اپنے اور ہزار قرض لے کر دکان کے منجملہ پندرہ سو روپیہ کے ہزار روپیہ کا مال دُکان میں ہے اور پانچ سو روپیہ قرضہ میں ہیں، اس صورت میں زکوٰۃ دی جائے یا نہیں اور دی جائے تو کس قدر کی؟
الجواب:
(١) اگر زید نے وُ ہ روپیہ اپنے اس عزیز کو دل مین نیّتِ زکوٰۃ کرکے دیا تو زکوٰۃ ادا ہوگئی خواہ کسی خرچ میں صرف کرے، اور اگر بطور خودبلا اجازت اس کے قرضہ میں دیا تو زکوٰۃ ادا نہ ہوگی، وا ﷲ تعالٰی اعلم۔
(٢) زکوٰۃ کُل روپیہ کی واجب ہوگی مگر مقدارِ قرضہ کے
ابھی ادا کر نا لازم نہیں، بعد وصول ادا کرسکتاہے۔
(٣) جبکہ اس کے پاس ثبوت نہیں اور نہ وُہ ادا پر آمادہ اور نہ اس کے پاس
جائداد، تو اُس قرضہ کی زکوٰۃ لازم نہیں۔
(٤) منجملہ پندرہ سو کے کسی قدر زکوٰۃ فی الحال واجب الادا نہیں جبکہ وُ ہ
وہی مال رکھتا ہو۔ والله
تعالٰی اعلم
_________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع