دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 10 | فتاویہ رضویہ جلد ۱۰

book_icon
فتاویہ رضویہ جلد ۱۰

مسئلہ ٧ :                                ١٢رجب ١٣٣١ھ

چار پانچ آدمی بزاز کے یہاں کپڑا خریدنے گئے اُن میں سے ایك نے کوئی کپڑا چُرالیا، بعد معلوم ہونے کے دُکاندار نے اس کومعاف کر دیا اور نیّت صدقہ یا زکوٰۃ کی کی، تو یہ نیت اس کی صحیح ہوگی یا نہیں؟ اور یہ کپڑا صدقہ یا زکوٰۃ میں محسوب ہوگا یا نہیں؟

الجواب:

اگر وُہ کپڑا ہنوز موجود ہے تو نہ وُہ صدقہ میں محسوب ہوگا، نہ زکوٰۃ میں، نہ اس کی معافی ہوگی فان الابراء عن الاعیان باطل (کیونکہ اعیان سے بری کرنا باطل ہے ۔ ت)ہاں اگر اسے ہبہ کردیاتو ہبہ ہوجائیگا ،اور اگر ہبہ کرنے سے زکوٰۃ یا صدقہ کی نیّت کی اور وُہ شخص اس کا مصرف ہو تو زکوٰۃ و صدقہ ادا ہوجائیں گے، اور اگر وُہ کپڑا اُس نے تلف کر دیا یہاں تك کہ اُس کا اُس پر تاوان لازم آیا اور اُس نے وہ تاوان معاف کر دیا تو معافی صحیح ہے اور نیت محمود ہو تو اجر پائے گا اور یہ خود ایك صدقہ نفل ہے مگر اس میں زکوٰۃ کی نیت صحیح نہیں، ہاں اس سے اتنے کی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی جتنا تاوان اس پر واجب تھا مگر یہ اُس کے دیگر اموال کی زکوٰۃ ہوسکے یہ نہ ہوگا۔ واﷲتعالٰی اعلم۔

مسئلہ٨ تا ۱۱:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں:

(١) زید نے اپنے برادرِ حقیقی یا بہنوئی یا بہن یا کسی دوست کو اپنی ضمانت سے مبلغ پچاس٥٠ روپیہ سُودی قرض دلادئے، اب وُہ روپیہ اصل وسُود مل کر سو روپیہ ہوگئے، زید نے وُہ روپے اپنی زکوٰۃ کے روپے سے ادا کردئے مگر شخص مذکور سے یہ نہیں کہا کہ روپیہ زکوٰۃ کا ہم نے تمھارے قرضہ میں دیا کیونکہ اگر اُس سے کہا جائیگا تو وُہ شخص بوجہ برادری کے زکوٰۃ لینا پسند نہیں کرتااس صورت میں زید سےزکوٰۃ ادا ہوگیا یا نہیں؟

(٢) زید نے مبلغ ہزار روپیہ کا رس خریدا اور روپیہ بموجب رواج کھنڈسالیوں کے بالیوں کو دے دیا، وقتِ وصول رس کے، پانچ سو روپیہ کا رس وصول ہُوا، اور باقی روپیہ کے سال آئندہ پر وصول ہونے کی امید رہی، اب زید پر زکوٰۃ پانچ سو روپیہ کی چاہئے یا ہزار کی؟ اور اس بقیہ روپے کا یہ انتظام کیا کہ کچھ روپیہ اور دے کر دستاویز تحریر کرالی اس دستاویز کا روپیہ بشرطِ پیدا واراس تحریر دستاویز سے دس ماہ بعد وصول ہوگا ورنہ سال آئندہ پر کیا قرضہ دستاویز پر زکوٰۃ چاہئے یا نہیں؟

(٣) کچھ قرضہ زیدکا اس طور ہے کہ زید نے دستاویز تحریر کراکے روپیہ قرض کردیا، منجملہ اس کے کچھ روپیہ وصول ہوا اور کچھ باقی رہا، اس بقیہ کی نہ دستاویز ہے اور نہ کوئی شئ ایسی اس شخص کے پاس ہے کہ جس سے وُہ قرضہ اپنا ادا کرے ،اور اگر ہے تو بغرض بدنیتی اُس شئ کو دوسرےکے نام کردیا، اب زید کو صرف اُمید ہی امید


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن