30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(١٦) جب دوپہر قریب آئے نہاؤ کہ سنتِ موکدہ ہے اور نہ ہوسکے تو صرف وضو۔
(١٧) دوپہر ڈھلتے ہی بلکہ اس سے پہلے کہ امام کے بقریب جگہ ملے مسجد نمرہ جاؤ سنتیں پڑھ کر خطبہ سن کر امام کے ساتھ ظہر پڑھو، بیچ میں سلام وقیام توکیا معنی سنتیں بھی نہ پڑھو، اور بعد عصر بھی نفل نہیں، یہ ظہر و عصر ملا کر پڑھنا جبھی جائز ہے کہ نماز یا تو سلطان خود پڑھائے یا وہ جو حج میں اس کا نائب ہو کر آتا ہے، جس نے ظہر اکیلے یا اپنی خاص جماعت سے پڑھی اسے وقت سے پہلے عصر پڑھنا حلال نہ ہوگا، اور جس حکمت کے لیے شرع نے یہاں ظہر کے ساتھ عصر ملا نے کا حکم فرمایا ہے یعنی غروب آفتاب تك دعا کے لیے وقت خالی ملتا ہے وہ جاتی رہے گی،
(١٨) خیال کرو جب شرع کو یہ وقت دعا کے لیے فارغ کرنے کا اس قدر اہتمام ہے توا س وقت اور کام میں مشغولی کس قدر بیہودہ ہے، بعض احمقوں کو دیکھا ہے کہ امام تو نماز میں ہے یا نماز پڑھ کر موقف عــــہ۱ کو گیااور وہ کھانے پینے حقے چائے اڑانے میں مصروف ہیں خبردار ایسا نہ کرو، امام کے ساتھ نما ز پڑھتے ہی فورًا موقف کو روانہ ہوجاؤ، او رممکن ہو تو اونٹ پر کہ سنت بھی ہے او رہجوم میں دبنے کچلنے سے محافظت بھی۔
(۱۹) بعض مطوف اس مجمع میں جانے سے منع کرتے ہیں اور طرح طرح سے ڈراتے ہیں ان کی نہ سنو کہ وہ خاص نزول رحمت عام کی جگہ ہے، ہاں عورات اور کمزور مرد یہیں کھڑے ہوئے دعا میں شامل ہوں کہ بطن عرنہ عــــہ۲کے سوا یہ سارا میدان موقف ہے اور یہ لوگ بھی تصور یہی کریں کہ ہم اس مجمع میں حاضر ہیں اپنی ڈیڑھ اینٹ کی الگ نہ سمجھیں، اس مجمع میں یقینا بکثرت اولیاء بلکہ الیاس وخضر علیہ الصلوٰۃ والسلام نبی اﷲ موجود ہیں، یہ تصور کریں کہ انوار وبرکات جو اس مجمع میں ان پر اتر رہے ہیں ان کا صدقہ ہم بھکاریوں کو بھی پہنچتا ہے، یوں الگ ہو کر بھی شامل رہیں گے، اور جس سے ہوسکے تو وہاں کی حاضری چھوڑنے کی چیز نہیں۔
(٢٠) افضل یہ ہے کہ امام سے نزدیك جبل رحمت کے قریب جہاں سیاہ پتھر کا فرش ہے رو بقبلہ پس پشت امام کھڑا ہو جبکہ ان فضائل کے حصول میں دقت یا کسی کی اذیت نہ ہو ورنہ جہاں اور جس طرح ہوسکے وقوف عــــہ۳ کرو۔ امام کی دہنی جانب اور بائیں رو برو سے افضل ہے، یہ وقوف ہی حج کی جان اور اس کابڑا رکن ہے۔
عــــہ۱ :وہ جگہ کہ نماز کے بعد سے غروب آفتاب تك وہاں کھڑے ہوکر ذکر و دعاکا حکم ہے۔ (م)
عــــہ۲: بطن عرنہ عرفات میں حرم کے نالوں میں سے ایك نالہ ہے مسجدنمرہ کے مغرب یعنی مکہ معظمہ کی طرف وہاں موقف محض ناجائز ہے۔(م)
عــــہ۳: وہا ں ذکر ودعا کے لیے کھڑا ہونا۔ (م)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع