30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مگر کسم کیسر کا رنگ مرد کو
ویسے ہی حرام ہے، دین کے لیے لڑنا جھگڑنا بلکہ حسب حاجت فرض وواجب ہے، جوتا پہننا
جو پاؤں کے جوڑ کو نہ چھپائے، بے سلے کپڑے میں لپیٹ کر تعویز گلے میں ڈالنا، آئینہ
دیکھنا، ایسی خوشبو کا چھونا جس میں فی الحال مہك نہیں جیسے اگر لوبان، صندل یا اس
کا آنچل میں باندھنا، نکاح کرنا،
(١٢) ان مسائل میں مرد وعورت برابر ہیں مگر عورت کو چند باتیں جائز ہیں: سر چھپانا، بلکہ نامحرم کے سامنے اور نماز میں فرض ہے توسر پر بستر بقچہ اٹھانا، بدرجہ اولیٰ، گوند وغیرہ سے بال جمانا، سر وغیرہ پر پٹی خواہ بازو یا گلے پر تعویز باندھنا اگر چہ سی کر، غلافِ کعبہ کے اندر یوں داخل ہونا کہ سر پر رہے منہ پر نہ آئے، دستانے موزے سلے کپڑے پہننا، عورت اتنی آواز سے لبیك نہ کہے کہ نامحرم سنے، ہاں اتنی آواز ہر پڑھنے میں ہمیشہ سب کو ضرور ہے کہ اپنے کان تك آواز آئے،
تنبیہ: احرام میں منہ چھپانا
عورت کو بھی حرام ہے، نامحرم کے آگے کوئی پنکھا وغیرہ منہ سے بچا ہوا سامنے رکھے۔
(١٣) جو باتیں احرام میں ناجائز ہیں وہ اگر کسی عذر سے یا بھول کر ہوں تو گناہ
نہیں، مگر ان پر جو جرمانہ مقرر ہے ہر طرح دینا آئے گا اگر چہ بے قصد ہوں سہوًا یا
جبرًا یا سوتے میں۔
(١٤) وقت احرام سے رمی جمرہ تك (جس کا ذکر آئے گا) اکثر اوقات لبیك کی بے شمار کثرت رکھے خصوصًا چڑھائی پر چڑھتے اترتے، دو قافلوں کے ملتے، صبح وشام، پچھلی رات، پانچویں نمازوں کے بعد مرد بآواز کہیں مگر اتنی بلند کہ اپنے آپ یا دوسرے کو تکلیف نہ ہو،
(١٥) جب حرم کے متصل پہنچے سر جھکائے، آنکھیں شرم گناہ سے نیچی کیے خشوع وخضوع سے داخل ہو، اور ہو سکے تو پیادہ ننگے پاؤں اور لبیك و دعا کی کثرت رکھے، اور بہتر یہ کہ دن کو داخل ہو نہاکر،
(١٦) مکہ مکرمہ کے گرد اگرد کئی کوس کا جنگل ہے، ہر طرف اس کی حدیں بنی ہوئی ہیں ان حدوں کے اندر ترگھاس اکھاڑنا، خود رو پیڑ کا کاٹنا، وہاں عــــہ کے و حشی جانوروں کو تکلیف دینا حرام ہے۔یہاں تك کہ اگر سخت دھوپ ہو اور ایك ہی پیڑ ہے اس کے سایہ میں ہرن بیٹھا ہے تو جائز نہیں کہ اپنے بیٹھنے کے لیے اسے اٹھائے، اور اگرکوئی وحشی جانور بیرونِ حرم کا اس کے ہاتھ میں تھا اسے لیے ہوئے حرم میں داخل ہوگیا، اب وہ جانور حرم کا ہوگیا، فرض ہے کہ فورا اسے آزاد کرے، مکہ معظمہ میں جنگلی کبوتر بکثرت ہیں ہر مکان میں
عــــہ: چیل، کوا، چوہا، چھپکلی، سانپ، بچھو، کھٹمل، مچھر، پسو وغیرہ خبیث اور موذی جانوروں کا قتل حرم میں بھی جائز ہے اور احرام میں بھی (م)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع