30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی واسطے اگر فقراء و مساکین کو مثلًااپنے گھر بلا کر کھانا پکا کر بطریقِ دعوت کھلادیا تو ہر گز زکوٰۃ ادا نہ ہوگی کہ یہ صورت اباحت ہے نہ کہ تملیك ، یعنی مدعو اس طعام کو ملك داعی پر کھاتا ہے اور اس کا مالك نہیں ہو جاتا اسی واسطے مہمانو ں کو روا نہیں کہ طعامِ دعوت سے بے اذنِ دعوت میزبان گداؤں یا جانوروں کو دے دیں ، یا ایك خوان والے دوسرے خوان والے کو اپنے پاس کچھ اٹھا دیں یا بعد فراغ جو باقی بچے اپنے گھر لے جائیں۔
|
فی الدرالمختار لو اطعم یتیما ناویا الزکوٰۃ لا یجزیہ الااذادفع الیہ المطعوم کما لو کساہ ١[1] انتھی قولہ کما لو کساہ ای کما یجزیہ[2] ١ھ طحطاوی عن الحلبی وفی الحاشیۃ الطحطاویۃ ایضا فی باب المصرف لا یکفی فیھا الاطعام الا بطریق التملیك ولواطعمہ عندہ نا ویا الزکوٰۃ لا یکفی [3] انتھی۔ |
درمختار میں ہے کہ کسی نے یتیم کو بنیتِ زکوٰۃکھانا کھلایا تو زکوٰۃ ادا نہ ہوگی مگر اس صورت میں جب کھانا اس کے سپردکر دیا گیا ہو ، جیسا کہ اگراسے لباس پہنادیا گیا ہو انتہی قولہ"کمالوکساہ"یعنی اس صورت میں بھی زکوٰۃادا ہوجائیگی اھ طحطاوی عن الحلبی اور حاشیہ طحطاویہ کے باب المصرف میں یہ بھی ہے کھانا کھلادینا کافی نہیں البتہ اگر مالك کردے توپھر کافی ہے، اور اگر کسی نے نیتِ زکوٰۃسے کھانا کھلایا تو کافی نہ ہوگا انتہی (ت) |
ہاں اگر صاحبِ زکوٰۃ نے کھانا خام خواہ پختہ مستحقین کے گھر بھجوادیا یا اپنے ہی گھر کھلایا مگر بتصریح پہلے مالك کردیا تو زکوٰۃ ادا ہو جائیگی،
|
فان العبرۃللتملیك ولا مدخل فیہ لا کلہ فی بیت المزکی اوارسالہ الی بیوت المستحقین وما ذکرہ الطحطاوی محمول علی الدعوۃ المعروفۃ فانھا المتبادرۃ منہ وانھا لا تکون الا علی سبیل الا باحۃ، واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
کیونکہ اعتبار تملیك کا ہے اس میں اس کا کوئی دخل نہیں کہ زکوٰۃ دینے والے کی گھر کھانا کھایا یا مستحق لوگوں کے گھر بھیج دیا ہو۔ اور جو طحطاوی نے ذکر کیا وہ دعوتِ معروفہ پر محمول ہے کیونکہ اس سے متبادر ہے کہ یہ دعوت بطورِ تملیك نہیں ہوتی بلکہ بطورِ اباحت ہوتی ہے، وا ﷲتعالیٰ اعلم (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع