30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لکھ کر چھاپ دے، حضرت سید صاحب کے حکم سے بکمال استعجابی یہ چند سطور تحریر ہوئیں، امید کہ بہ برکت سادات کرام، اﷲ تعالیٰ قبول فرمائے اور مسلمان بھائیوں کو نفع پہنچائے، آمین!
فصل اوّل آداب سفر و مقدماتِ حج میں
(١) جس کا قرض آتا ہو یا امانت پاس ہو ادا کرے، جن کے مال ناحق لیے ہوں واپس دے یا معاف کرائے، پتا نہ چلے تو مال فقیروں کو دے دے۔
(٢) نماز ، روزہ، زکوٰۃ جتنی عبادات ذمہ پر ہوں ادا کرے اور تائب ہو۔
(٣) جس کی بے اجازت سفر مکروہ ہے جیسے ماں، باپ، شوہر، اسے رضامند کرے جس کااس پر قرض آتا ہے، اس وقت نہ دے سکے توا س سے بھی اجازت لے، پھر بھی حج کسی کی اجازت نہ دینے سے رك نہیں سکتا، اجازت میں کوشش کرے نہ ملے جب بھی چلا جائے،
(٤) اس سفر سے مقصود صرف اﷲ ورسول ہوں۔
(٥) عورت کے ساتھ جب تك شوہر یا محرم بالغ قابل اطمینان نہ ہو جس سے نکاح ہمیشہ کو حرام ہے سفر حرام ہے، اگر کرے گی حج ہوجائے گا مگر ہر قدم پر گناہ لکھا جائے گا۔
(٦) توشہ مال حلال سے ہو ورنہ قبول حج کی امید نہیں اگر چہ فرض اترجائے گا۔
(٧) حاجت سے زیادہ توشہ لے کر رفیقوں کی مدد اور فقیروں پر صدقہ کرتا چلے، یہ حج مبرور کی نشانی ہے۔
(٨) عام کتب فقہ بقدر کفایت ساتھ لے ورنہ کسی عالم کے ساتھ چلا جائے، یہ بھی نہ ملے تو کم از کم یہ رسالہ ہمراہ ہو۔
(٩) آئینہ، سُرمہ، کنگھا، مسواك ساتھ رکھے کہ سنت ہے،
(١٠) اکیلا سفر نہ کرے منع ہے، رفیق دیندار ہو کہ بددین کی ہمراہی سے اکیلابہتر ہے۔
(١١)حدیث میں ہے: جب تین آدمی سفر کو جائیں اپنے میں ایك کو سردار بنالیں [1]۔ اس میں کاموں کا انتظام رہتا ہے، سردار اسے بنائیں جو خوش خلق، عاقل دیندار ہو، سردار کو چاہئے رفیقوں کے آرام کو اپنی آسائش پر مقدم رکھے۔
چلتے وقت اپنے دوستوں عزیزوں سے ملے اور اپنے قصور معاف کرائے، اور ان پر لازم ہے کہ دل سے معاف کردیں، حدیث میں ہے کہ جس کے پاس اس کا مسلمان بھائی معذرت لائے واجب ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع