30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کردینا جائز و کافی ہے ، زکوٰۃ ادا ہوجائیگی ، جس قدر چیز محتاج کی مِلك میں گئی بازار کے بھاؤ سے جو قیمت اس کی ہے وہی مجراہوگی بالائی خرچ محسوب نہ ہوں گے ، مثلاآج کل مکّا کا نرخ نَو سیر ہے نَو من مکّا مول لے کر محتاجو ں کو بانٹی تو صرف چالیس روپیہ زکوٰۃ میں ہوں گے ، اُس پر جو پلّہ داری یا باربرداری دی ہے حساب میں نہ لگائی جائےگی ، یا گاؤں سے منگا کر تقسیم کی تو کرایہ گھاٹ چونگی وضع نہ کریں گے ، یا غلّہ پکا کر دیا تو پکوائی کی اُجرت ، لکڑیوں کی قیمت مجرانہ دینگے، اس کی پکی ہوئی چیز کو جو قیمت بازار میں وہی محسوب ہو گی ،
|
لان رکنھا التملیك من فقیر مسلم لو جہ اﷲ تعالی من دون عوض۔ |
کیونکہ اس کا رکن یہ ہے کہ کسی فقیر کو اﷲکی رضاکی خاطر اس کا مالك بنایا اور بطور معاوضہ نہ ہو ۔ (ت) |
درمختار میں ہے :
|
لو اطعم یتیما نا ویا الزکوٰۃ لا یجزیہ الا اذا دفع الیہ المطعوم کمالوکساہ۔ [1] |
جب کسی نے یتیم کو نیتِ زکوٰۃ سے کھانا کھلایا زکوٰۃ ادا نہ ہوگی جب تك کھانا اس کے حوالے نہ کردے، ایسے ہی لباس کا معاملہ ہے (ت) |
عالمگیری میں ہے :
|
ماسواہ من الحبوب لا یجوزالابالقیمۃ۔ [2] |
یہ دانوں کے علاوہ میں ہے کیونکہ وہاں قیمت ہی ضروری ہے (ت) |
اسی میں ہے : الخبز لا یجوز الا باعتبار القیمۃ [3] (روٹی کا اعتبار قیمت کے بغیر جائز نہیں ۔ ت) واﷲسبحٰنہ وتعالٰی اعلم و علمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ٤:کیا فر ماتے علمائے دین اس صور ت میں کہ اگر کسی شخص نے عوض اس زر زکوٰۃ کہ جو اس کہ ذمّہ واجب ہے محتاجو ں کو کھانا کھلادیا یا کپڑے بنادئے تو زکوٰۃ ادا ہو جائیگی یا نہیں؟بینو ا توجروا۔
الجواب:
عوض زر زکوٰۃ کے محتاجوں کو کپڑے بنادینا، انھیں کھانا دے دینا جائز ہے اور اس سے زکوٰۃ ادا ہو جائیگی خاص روپیہ ہی دینا واجب نہیں مگر ادائے زکوٰۃ کے معنیٰ یہ ہیں کہ اس قدر مال کا محتاجوں کو مالك کر دیا جائے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع