30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ٣١١: از اوجین مکان میر خادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ ملا یعقوب علی خاں ٤ رجب ١٣١١ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص احرام میں ذرا دیر سر پر بُھولے سے کپڑا ڈال لے تو حکم ہے کہ من گیہوں دے اور جو مکہ میں نہ دے یہاں دے کیاحکم ہے؟ حج میں تو خلل نہیں کہ یہ مستحب ہے اور اگر کسی عذر کے سبب سر چھپانا پڑے تو کیا حکم ہے؟
الجواب:
جو مرد اپنا سارایا چوتھائی سر بحالت احرام چُھپائے جسے عادۃ سر چھپانا کہیں، جیسے ٹوپی پہننا، عمامہ سر باندھنا، سر سے چادر اوڑھنا، دُھوپ کے باعث سر پر کپڑا ڈالنا، درد کے سبب سر کسنا، زخم کی وجہ سے پٹی باندھنا ( نہ گٹھڑی یا صندوق یاخوان وغیرہ کا سر پر اٹھانا کہ یہ سر چھپانے میں داخل نہیں) اس پر مطلقًا جُرمانہ واجب ہے اگر چہ بھولے سے، اگر چہ سوتے میں، ا گر چہ بیہوشی میں اگر چہ عذر سے ،مگرصحت حج میں خلل نہیں، ہاں ایك طرح کا قصور ہے جس کی تلافی کو جُرمانہ مقرر ہوا، جیسے نماز میں سہوًا ترك واجب سے سجدہ، عذر و بے عذر میں اتنا فرق ہے اگر بے عذر ایك دن کامل یا ایك رات کامل یا اس سے زائد سرچھپارہا تو خاص حرم میں ایك قربانی ہی کرنی ہوگی جب چاہے کرے، دُوسرا طریقہ کفارہ کا نہیں اور عذر مثلًا بخار یا سردی یا زخم یا درد کے سبب اتنی مدت چھپایا تو اختیار ہوگا حرم میں قربانی کرے یا جہاں چاہے جب چاہے یا تین۳ صاع گیہوں یا مثلا چھ۶ صاع جَو، چھ۶ مسکینوں کو دے یا تین۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع