دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 10 | فتاویہ رضویہ جلد ۱۰

book_icon
فتاویہ رضویہ جلد ۱۰

جب یہ امور ذہن نشین ہولیے تو جوابِ مسئلہ بحمدہٖ تعالٰی واضح ہوگیا ، اگر وُہ اگر دینے والے بقصدِ معاوضہ و بطورِ اُجرت دیتے یا نیتِ زکوٰۃکے ساتھ یہ نیت بھی ملالیتے تو بیشك زکوٰۃ ادا نہ ہوتی ۔

امّا علی الاوّل فلعدم النیۃ واما علی الثانی فلعدم الاخلاص ولایکون کنیۃ الحمیۃ مع نیۃ الصوم حیث تجزی لانھا نیۃ لازم لا نیۃ مناف کما افادہ المولی المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر ولا کذلك ما ھنا فان التعویض یبائن التصدق ۔

پہلی صورت (بقصدِ معاوضہ و اجرت) میں نیتِ زکوٰۃ ہی نہیں اور دوسری صورت یعنی (زکوٰۃ کے ساتھ معاوضہ کی نیت بھی ہو ) تو اخلاص نہ ہونے کی وجہ سے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی اور اس طرح نہیں جیسے بخار کی بناء پر رخصت کی نیت روزہ کی نیت کے ساتھ کہ یہ جا ئز ہے کیونکہ نیت اس صورت میں لازم کی نیّت ہے منافی کی نہیں ، جیساکہ مولی محقق علی الاطلاق نے فتح القدیرمیں افادہ فرمایا ہے اور یہاں ایسا نہیں ہے کیونکہ معاوضہ میں دینا صدقہ کہ منافی ہے۔ (ت)

جبکہ تقریر سوال سے ظاہر کہ انہوں نے محض بنیت زکٰوۃ دیا اور اسے زکوٰۃ ہی خیال کیا،معاوضہ و اُجرت کا اصلًالحاظ نہ تھا تو بے شك زکوٰۃ ادا ہوگئی اگر چہ وہ شخص جسے زکوٰۃ دی گئی اپنے علم میں کچھ جانتا ہو ، اگر چہ انہوں نے اس سے صاف کہہ بھی دیا کہ یہاں رہوگے تو دیں گے ورنہ نہ دیں گے، اگر چہ وُ ہ عمل بھی اس کے مطابق کریں یعنی ایامِ حاضری میں دیں غیر حاضری میں نہ دیں کہ جب نیت میں صرف زکوٰۃ کا خاص قصد ہے تو اُ ن میں کوئی امر اُ س کا نافی و منافی نہیں۔

کما حققنا فالا فتاء ھھنا بعدم الاجزاء بناء علیٰ مخالفۃ علم المدفوع الیہ کماوقع عن بعض المدعین علو ا الکعب فی العلم الدینیۃ ناش عن قلۃ التدبیر او سوء الفھم واﷲالمستعان وعلیٰ ازالۃ الوھم والحمدﷲ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔

جیسا کہ ہم نے تحقیق کی ہے ، پس اب اس پر فتوٰی دینا کہ یہاں زکوٰۃ دینا اسلئے جائز نہیں کہ جس کو دی جارہی ہے اس کے علم میں یہ نہیں ہے ، جیسا کہ علمِ ِدین میں اپنے فوقیت کا اعلان کرنے والے بعض حضرات نے کیا، یہ قلت تدبریا سوءِ فہم کی وجہ سے ہُوا۔ اﷲتعالٰی ہی ازالہ وہم پر مدد گار ہے والحمد ا ﷲ والله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم (ت)

مسئلہ٣ :                 مسئولہ مولوی علی احمد صاحب مصنّف تہذیب الصبیان                                ١٩ جمادی الاولیٰ١٣١٤ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ان دنوں قحط میں بعض آدمی مد زکوٰۃ میں بھوکوں کو غلّہ مکّا وغیرہ تقسیم کر تے ہیں ، یہ جائز ہے یا نہیں؟بینواتوجروا

الجواب:

زکوٰۃ میں روپے وغیرہ کہ عوض بازار کے بھاؤ سے اس قیمت کا غلّہ مکّا وغیرہ محتاج کو دے کر بہ نیت زکوٰۃ مالک


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن