30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کما فی البحر ح وفی النھر وصحح الاول فی البدائع ورجح الثانی فی النھایۃ تبعا لقاضی خاں واختارہ فی الفتح اھ قلت لکن جزم فی اللباب بانہ لایجب علیھاا لتزوج مع انہ مشی علی جعل المحرم اوالزوج شرط اداء، ورجح ھذا فی الجوھرۃ وابن امیر حاج فی المناسك کما قالہ المصنف فی منحہ قال ووجھہ انہ لا یحصل غرضھا بالتزوج لان الزوج لہ ان یمتنع من الخروج معھما بعد ان یملکھا ولا تقدر علی الخلاص منہ وربما لا یوا فقھا فتتضرر منہ بخلاف المحرم فانہ ان وفقھا انفقت علیہ وان امتنع امسکت نفقتھا وترکت الحج اھ فافھم [1] اھ مافی ش اقول: نعم المخلص من ھذہ کلھا ماذکرت من ان تتزوج بشرط ان تملك طلقۃ بائنۃ تطلق بھا نفسھا متی شاءت فان لم یخرج معھا اولم یوافقھا اولم تردہ تخلص نفسھا ولاحرج علیھا واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
جیسا کہ بحر اور نہر میں ہے، بدائع نے اول کو صحیح بتایا اور نہایہ نے قاضی خاں کی اتباع میں دوسرے کو ترجیح دی ہے، اور فتح میں بھی اسی کو اختیار کیاہے اھ میں کہتا ہوں اللباب میں اس پر جزم ہے کہ اس عورت پر نکاح کرنا لازم نہیں باوجود یکہ انھوں نے بھی یہ کہا کہ محرم یا خاوند وجوب ادا کے لیے شرط ہے اسے جوہرہ میں اور ابن امیر حاج نے المناسك میں اسی کو ترجیح دی، جیسا کہ مصنف نے اپنی منح میں کہا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ نکاح سے اس عورت کی غرض کا پورا ہونا ضروری نہیں ممکن ہے خاوند نکاح کے بعد اجازت نہ دے اور وہ عورت اس سے خلاصی پر قادر بھی نہ ہو، بہت دفعہ خاوند بیوی میں موافقت نہیں رہتی لہذا نکاح سے نقصان ہوگا بخلاف محرم کے، اگر وہ عورت کی موافقت کرے گا تو اس پر خرچ کرے گی اور اگر وہ رك جاتا ہے تووہ خرچ بھی روك کر حج چھوڑدے گی اھ فافھم ما فی ش اقول:(میں کہتاہوں۔ ت) ان تمام صورتوں میں بچت س میں ہے جو ہم نے ذکر کیا، عورت اس شرط پر نکاح کرے کہ عورت طلاق بائنہ کی مالك ہوگی اور جب چاہے اپنے آپ کو دے سکے گی اب اگر خاوند اس کے ساتھ نہیں جاتا یا موافقت نہیں کرتا یا جواب نہیں دیتا تو اس سے خلاصی پائے اوراس پرکوئی تنگی نہیں، والله تعالیٰ اعلم (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع