30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
نعم [1] ١ھ ملخصًا قولہ(والظاھرنعم) البحث لصاحب النہروقال لانہ مقتضی صحۃ التملیك قال الرحمتی والظاھر انہ لا شبہۃ فیہ لا نہ ملکہ ایاہ عن زکوٰۃ مالہ و شرط علیہ شرطا فاسدا او الھبۃ و الصدقۃ لا تفسدان بالشرط الفاسد [2] اھ ردالمحتار۔ |
فقیر اس کے خلاف کرسکتا ہے اھ ملخصًا۔قولہ والظاہرنعم ، صاحب نہر نے اس پر بحث کر تے ہُوئے فر مایا کہ حُرمت تملیك کا تقاضہ یہی ہے کہ وہ خلاف ورزی کر سکتا ہے ۔ رحمتی نے فرمایا : ظاہر یہی ہے کہ اس میں کوئی شك نہیں اس لیے کہ اس نے فقیر کو اپنے مال کی زکوٰۃ دے کر اسے مالك بنا دیا اور ساتھ شرط فاسد کا اضافہ کردیا حالانکہ ہبہ اور صدقہ شرط فاسد سے فاسد نہیں ہوتے اھ ردالمحتار (ت) |
پھر جب صریح شرط باوجود خلوصِ نیّت اداء زکوٰۃ میں خلل انداز نہیں تو ایسا بر تاؤ جو بظاہر معنیِ شرط پر دلالت کرے مثلًاجب یہاں رہے تو دے اور نہ رہے تو نہ دے ، بدرجہ اولی باعث خلل نہ ہوگا۔
|
اقول: وقد ظہر ھذا من مسائل البشیر والطبال ومھدی البالکورۃ فانہ انما یحمل الناس علی الدفع الیھم افعالھم ھذھ ولو لم یفعلو افلر بمالم ید فع الیھم شیئ ومن ذلك مسئلۃ دفع العیدی بنیۃ الزکوٰۃ الی خدامہ من الرجال و النساء حیث یقع عن الزکوٰۃ کما فی المعراج وغیرہ مع العلم با نہ لو لم یخدموہ لما اعطا ھم و با لجملۃ فھذہ العلائق تکون بواعث للناس علیٰ تخصیصھم بصرف الزکوٰۃ فد وران العطاء معھا وجودا وعد ما لا یعین معنی التعویض وانما المراجع النیۃ فا ذا خلصت اجزت۔ |
اقول: بشارت دینے والے ، سحر خواں ( سحری کے وقت بیدار کرنے والا ) اور نئے پھلوں کا ہدیہ دنے والے کے مسائل سے بھی یہ بات واضح ہوگئی ہے کیونکہ لوگ ان کو ان کے عمل کی وجہ سے دیتے ہیں ، اگر وُہ یہ کام نہ کریں تو اکثر اوقات ان بیچاروں کو کچھ بھی نہیں دیا جاتا ، اسی طرح یہ مسئلہ کہ خدام(خواہ مرد ہوں یا خواتین )کو نیت زکوٰۃ سے عیدی دینے سے زکوٰۃ ادا ہوجاتی ہے ، جیسا کہ معراج وغیرہ میں ہے ، حالانکہ یہ بات مسلّمہ ہے کہ اگروُہ خدمت نہ کرتے تو انھیں یہ رقم نہ ملتی ، الغرض یہ وہ تعلقات ہیں جن وجہ سے لوگ ان مخصوص لوگوں کو زکوٰۃ دیتے ہیں تو اب عطا کا تعلقات کے ساتھ دوران وجودًا وعدمًاعوض بنانے کے معنٰی کو معیّن نہیں کر تا، نیّت پر مدار ہوگا جب نیّت خالص ہو گی تو زکوٰۃ ادا ہو جائیگی ۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع