30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اتنا بچنا کہ اس سے حج کے لیے جانے آنے رہنے کے بھی تمام مصارف ہوں او رزید کے لیے اس حالت میں کہ نہ اور مال نہ کسب پر قدرت، کچھ ذریعہ معاش بچ بھی رہے معقول نہیں لہذا بالاتفاق ورنہ علی التنزیل صاحب مذہب رضی الله تعالیٰ عنہ کے مذہب صحیح مرجح پر تو بلا شبہہ زید پر حج کرانا بھی نہیں اور خود حج کو جانا تو بالا جماع اصلا صورت وجوب نہیں رکھتا لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَاؕ[1] (الله کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر۔ ت)تنویر الابصار ودرمختار وردالمحتار میں ہے:
|
الحج فرض علی مسلم حرمکلف صحیح البدن ٢[2] (ای سالم عن الاٰفات المانعۃ عن القیام بما لا بد منہ فی السفر فلا یجب علی مقعد ومفلوج وشیخ کبیر لا یثبت علی الراحلۃ بنفسہ واعمی وان وجد قائدا لا بانفسھم ولا بالنیابۃ فی ظاھر المذھب عن الامام وھو روایۃ عنھما وظاھر الروایۃ عنھما وجوب الاحجاج علیھم، وظاھر التحفۃ اختیار قولھما وکذا الاسبیجابی وقواہ فی الفتح، وحکی فی اللباب اختلاف التصحیح وفی شرح انہ مشی علی الاول فی النھایۃ وقال فی البحر العمیق، انہ المذھب الصحیح وان الثانی صححہ قاضیخان فی شرح الجامع واختارہ کثیر من المشائخ [3] اھ ش) بصیر ذی زادو راحلۃ |
حج ہرمسلم آزاد بالغ صحت مند پر لازم ہے (یعنی ہر اس آفت سے محفوظ ہو جس کے باوجود سفر نہیں کیا جاسکتا، پس لولے، فالج زدہ اور ایسے بڑے بوڑھے پرحج فرض نہیں جو سواری پر قائم نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح نابینا پر بھی فرض نہیں اگرچہ کوئی اس کا معاون ہو، امام صاحب کے ظاہر مذہب کے مطابق نہ ان کی ذوات پر لازم اور نہ ان پر نائب بنانا لازم ہے، اور ایك روایت صاحبین سے یہی ہے۔ ظاہر الروایۃ صاحبین سے یہ ہے کہ ان پر حج بدل کروانا لازم ہے، تحفہ سے ظاہرًا یہی معلوم ہوتا ہے کہ صاحبین کا قول مختار ہے، اسبیجابی میں اسی طرح ہے فتح میں ا س کو قوی کہا۔ اللباب میں تصحیح اقوال میں اختلاف منقول ہے، اسی کی شرح میں ہے کہ نہایہ میں پہلے قول کو لیا گیا ہے، بحرا لعمیق میں ہے کہ یہی مذہب صحیح ہے، قاضیخان نے شرح الجامع میں دوسرے قول کو صحیح کہا ہے، اور اسے کثیر المشائخ نے اختیارکیا اھ ش)ایسے زادراہ اور سواری پر قادر ہو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع