30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ٣٠١: از پٹنہ عظیم آباد بخشی محلہ مسئولہ منشی علی حسین صاحب ٢٥ شعبان ١٣٣١ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید معمر قریب ہفتادسال مریض رعشہ کہ تنہا سفرکے قابل نہیں کبھی اپنے زمانہ صحت وشباب میں اتنے مال کا مالك نہ ہوا کہ اس پر حج فرض ہوتا، اب کہ حالت یہ ہے اس نے اپنا مال وغیرہ بیچا اور پانچسو روپے اس کے پاس ہوگئے کہ یہی کُل سرمایہ اس کا ہے۔ بوجہ ضعف وامراض دوسرے شہر میں جہاں اس کے اعزہ ہیں سکونت کرنا اور وہاں مکان خریدنا چاہتا ہے، اس صورت میں اس پر خود حج کو جانا یاروپیہ دے کر حج بدل کرانا واجب ہے یانہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں زید پر حج اصلًا واجب نہیں۔ ہمارے امام اعظم رضی الله تعالیٰ عنہ کے مذہب مصحح ظاہر الروایۃ میں تو ایسی تندرستی جو اس سفر مبارك کے قابل ہو شرط وجوب ہے کہ بغیر اس پر حج سرے سے واجب ہی نہ ہوتا، نہ خود جاتا نہ دوسرے کو بھیجتا، اور صاحبین رحمہما الله تعالیٰ کے مذہب مصحح میں اگرچہ تندرستی مذکور شرط وجوب نہیں، شرط وجوب ادا ہے کہ وہ نہ ہو تو خود جانا لازم نہیں مگر اپنے عوض اپنے روپے سے اپنی حیات میں یا بعد موت حج کرانا واجب ہے مگر مال جملہ حاجات سے فاضل ،جانے آنے کے قابل باتفاق فقہائے کرام شرط وجوب ہے کہ بے اس کے حج واجب ہی نہیں ہوتا، اور مکان حاجات اصلیہ سے ہے اس کی خریداری یا بنانے کے بعد اس زمانے میں کہ اب مصارف حج بہت قریب گزرے ہوئے زمانے سے تقریبًا دو چند ہوگئے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع