30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وللقوم الاذن لما صلحوا ولکل ثواب وبشری، الصواب، والحمد ﷲ رب الارباب۔
وبالجملۃ فالحکم عدم جواز الجوار اصلا فی زماننا والعاقل لایسعہ الا الاحتیاط لنفسہ والاحتراز عن سلوك مسالك تفضی غالبا الی المھالك ومن صدق نفسہ فقد صدق کذو باوسیری ذٰلک"ولا حول ولاقوۃ الاّباﷲ العلی العظیم"واذاکان الامر وصف ھنالك سقط منشأ ا لسوال رأسا ،اذ تبین ان لیس مایظنہ خیرا، خیرا واﷲ المسئول ان یرزق الخیر وبقی الضیر وھو سبحانہ وتعالٰی اعلم و علمہ جل مجدہ اتم واحکم وصلی اﷲ تعالٰی علٰی سیدنا محمد واٰلہٖ وصحبہٖ وبارك وسلم۔ |
منع کیا تھا تو انھوں نے اس کے نقصانات کا ازالہ کیا ان کی اس خیر خواہی پر ان کے لیے اجر ہی اجر ہے اور لوگوں کے لیے اس میں اجازت ہے جو صلاحیت رکھتے ہوں اور ہر ایك کے لیے ثواب اور بشارت ہے، درستی اور حمد رب الارباب کے لیے ہے۔ بالجملہ ہمارے دور میں مجاورت کی قطعًا اجازت نہیں۔ عقلمند اپنے لیے فقط احتیاط ہی کی راہ اپنا تا ہے اور ہر اس راستہ سے اجتناب کرتا ہے جس سے ہلاکت میں گرنے کا خدشہ ہو، جس نے اپنے نفس کو سچا سمجھا اس نے جھوٹے کی تصدیق کی اور خود اس کا مشاہدہ بھی کرے گا برائی سے بچنے اور نیکی بجا لانے کی طاقت اللہ تعالیٰ جو بلند وعظیم ہے کی توفیق کے بغیر نہیں، جب معاملہ یہ ہے جو یہاں بیان ہو اتو اب سرے سے سوال ہی ختم ہوگیا کیونکہ جس شے کو سائل نے خیر تصور کیا تھا وہ خیر ہی نہیں، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے وہ خیر کی توفیق دے اور نقصان سے بچائے اور وہی مقدس واعلم ہے اس کا علم کامل واکمل ہے، اس کے رسول اور ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر درود وسلام ہو اورآپ کے آل واصحاب پر بھی ۔ (ت) |
_____________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع