30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی وجوب نفقۃ طالب العلم، ان ھذا اذاکان بہ رشد، کما فی الخلاصۃ ولذا قال صاحب المنیۃ والقنیۃ انا افتی بعدم وجوبھا فا ن قلیلا منھم حسن السیرۃ مشتغلا بالعلم الدینی واکثر ھم (کذا وکذا وذکر من مساویھم، ثم قال اعنی الحصکفی) واما م کان بخلافھم فنادر فی ھذا الزمان فلایفرد بالحکم دفعا لحرج التمییز بین المصلح والمفسد [1] الخ۔ قلت ومن ھذا القبیل حکمھم بتحریم السماع المجرد عن المزامیر فانہ یھیج مکا من القلوب واکثر الناس اساری الشہوات فالوجہ المنع سدا لباب الفتنۃ وان کان نفع شی فی حق رجال تحلوا بالفضائل وتخلوا عن الرذائل وماتت شہوا تھم بل قنت ذواتھم فبقی السماع محض الاتنفاع وبہ انقطع تطویل النزاع، فمن فعلہ من الاولیاء فقد اصاب خیرہ ومن منعہ من الفقہاء فقد ازال ضیرہ فلھم الاجربما نصحوا |
میں لکھا کہ یہ اس وقت ہے جب اس میں نیکی ہو اور بے رواہ روی نہ ہو، جیسا کہ خلاصہ میں ہے، اسی لیے صاحب منیہ وقنیہ نے کہا میں عدم وجوب کافتویٰ دیتا ہوں کیونکہ ان میں بہت کم طلبہ اچھے کردار کے حامل اور علم دین کے حاصل کرنے والے ہیں اور ان میں سے اکثر (ایسے ایسے ہیں اور پھر اپنے دور کے طلبہ کا ذکر کیا۔ پھر حصکفی نے کہا) جو ان کے خلاف ہیں وہ اس دور میں بہت کم ہیں ا ور اب مصلح اور مفسد میں فرق مشکل ہوجانے کی وجہ سے ان کے لیے الگ حکم بیان نہیں کیا جاسکتا الخ میں کہتاہوں اسی قبیل سے سماع کا حرام ہونا ہے خواہ وہ مزامیر کے ساتھ نہ ہو، کیونکہ وہ دل کے جذبات کو ابھارتا ہے، اور اب اکثر لوگ شہوات نفسانیہ کے قیدی بن چکے ہیں۔ لہذا فتنہ کے دروازے کو بند کرنے کے لیے سماع سے منع کرنا ہی درست ہے اگر چہ یہ ایسے کچھ لوگوں کے لیے نافع بھی ہے جو فضائل سے مزین ،رذ ائل سے خالی ہو اور ان کی نفسانی خواہشات مر چکی ہوں بلکہ ان کی ذوات سراپا خشوع وخضوع ہوچکی ہو توپھر سماع واقعۃً نافع ہوتاہے۔ اس مسئلہ میں جو طویل نزاع ہے اس سے وہ بھی ختم ہوجا تا ہے اولیاء میں سے جس نے سماع سنا اس نے درست کیا اور اس کے لیے خبر بنا فقہاء میں سے جس نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع