30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ھو مذہب الامام رضی اﷲ تعالٰی عنہ و لذا اخذ الفاضلون المحشون العلامۃ الحلبی ثم الطحطاوی ثم الشامی کلھم فی حواشی الدر، فی اشتراطہ التوثیق حیث نقلوا کلام الفتح، ثم قالوا وھو وجیہ، فکان ینبغی للشارح ان ینص علی الکراھۃ ویترك التقلید بالتوثیق [1] اھ زاد ابن عابدین ای اعتبار للغالب من حال الناس لا سیما اھل ھٰذا الزمان واﷲ المستعان [2] ھ۔ ولقد اعجبنی قول العلامۃ علی القاری، فی مسلك المتقسط شرح المنسك المتوسط، مع تصحیحہ ما علمت حیث یقول لوکانت الائمۃ فی زمانناوتحقق لھم شاننا لصرحوا بالحرمۃ٣[3] الخ۔ قلت ونظیرہ ماقال فی الدرالمختار فی مسئلۃ دخول المرأۃ الحمام ان فی زماننا لا شك فی الکراھۃ لتحقق کشف العورۃ[4] اھ وقد سبقہ الی ذٰلك المحقق علی الاطلاق فی الفتح، ونحوھا ماذکر العلائی ایضا فی الدراالمنتقی شرح الملتقی |
امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مذہب ہے، یہی وجہ ہے کہ درمختار پر حواشی لکھنے والے فاضل علماء حلبی، طحطاوی پھر شامی سب نے فتح القدیر کی عبارت نقل کرکے توثیق کی شرط لگائی اور پھر کہا یہی بہتر ہے لہذا شارح کو چاہئے تھا کہ وہ کراہت پر تصریح کرنااور توثیق کی قید ترك کردیتا اھ ابن عابدین نے یہ اضافہ کیا کہ یہ اکثر لوگوں کے حال کے اعتبار خصوصًا اس دَور کے حوالے سے ضروری ہے اور اللہ تعالیٰ ہی مدد فرمانے والا ہے اھ مجھے علامہ ملا علی قاری کا"مسلك متقسط شرح المنسك المتوسط"میں یہ قول بہت پسند آیا، جیسا مجھے معلوم ہے انھوں نے مذکور گفتگو کی تصحیح کرتے ہوئے کہا اگر یہ ائمہ ہمارے دَور میں ہوتے اور ہمارے احوال سے آگاہ ہوتے تو مجاورت کے حرام ہونے کی تصریح کرتے الخ میں کہتا ہوں اس کی نظیر درمختار میں"عورت کا حمام میں جانا"کے تحت ہے کہ ہمارے دور میں یہ مکروہ ہے کیونکہ بے پردگی ہوتی ہے اھ اور اس سے پہلے فتح میں محقق علی الاطلاق نے بھی یہی لکھا ہے وہ بھی اسی کی مثل ہے جو حافظ علائی نے الدر المنتقی شرح الملتقی میں طالب علم کے وجوب نفقہ کے بارے |
[1] طحطاوی علی الدرالمختار کتاب الحج باب الہدی دارالمعرفہ بیروت ١/٥٦٢
[2] ردالمحتار کتاب الحج مطلب فی المجاورۃ بالمدینۃ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٢٥٦
[3] مسلك متقسط مع ارشاد الساری فصل اجمعوا علی افضل البلاد الخ دارالکتاب العربی بیروت ص٣٥٢
[4] درمختار باب الاجارۃ الفاسدۃ مطبع مجتبائی دہلی ٢/١٧٨
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع