30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مایکون اذا حلفت فکیف اذا ادعت واﷲ تعالٰی اعلم وعلٰی ھذا فیجب کون الجوار فی المدینۃ المشرفۃ کذلك فان تضاعف السیئات اوتعاظمھا وان فقد فیھا [1]۔ (قلت وذٰلك لان الرحمۃ فی المدینۃ اکثر واللطف اوفر والکرم اوسع و العفوا سرع کما ھو شاہد مجرب والحمد ﷲ رب العٰالمین ومع ذٰلک) فمخافۃ السامۃ وقلت الادب المفضی الی الاخلال بواجب التوقیر والاجلال، قائم وھو ایضا مانع،الا للافراد ذوی الملکات ٢[2] اھ مختصرا موضحا وھو کما ترٰی من الحسن بمکان فقد افادوا جاد، اثابہ الجواد تبارك وتعالٰی، وابان ان الامر، وان کان فی الواقع علی جواز الجوار بشرط التوثیق وھو التوفیق عندالتحقیق کما نص علیہ وصححہ فی شرح اللباب وجزم بہ فی الدرالمختار الا ان اھل التوثیق لما کانوا اقل قلیل واحکام الفقہ انما تبتنی علی الغالب الکثیر دون النادر الیسیر فالوجہ ھو اطلاق المنع کما |
اپنی قسموں میں نہایت جھوٹا ہوتا ہے تو اپنے دعووں میں وہ کیا ہوگا، اور اللہ تعالیٰ ہی بہتر جاننے والا ہے، اس بنا پر یہ ضروری ہے کہ مدینہ طیبہ میں مجاورت کا بھی یہی حکم ہو اگر چہ یہاں گناہوں پر سزا میں اضافہ یا ان کی شدت مفقود ہے۔ میں کہتا ہوں، کیونکہ مدینہ طیبہ میں رحمت اکثر لطف وافر، کرم سب سے وسیع اور عفو سب سے جلدی ہوتا ہے جیسا کہ شاہد مجرب ہے والحمد ﷲ رب العالمین، اس کے بوجود) اکتا نے کا ڈر اور وہاں کے احترام وتوقیر میں قلت ادب کا خوف تو موجود ہے او ریہ بھی تو مجاورت سے مانع ہے، ہاں وہ افراد جو فرشتہ صفت ہوں تو ان کا وہاں ٹھہرنا اور فوت ہونا سعادتِ کاملہ ہے اھ اختصارًا آپ نے دیکھا اس جگہ محقق نے کنتی اچھی گفتگو کی یہ نہایت ہی عمدہ تفصیل ہے اللہ تعالٰی انھیں اجر عطافرمائے، انھوں نے یہ واضح فرمادیا کہ اگر چہ مجاورت کا معاملہ جائزہے مگر بشرط توثیق جو بصورت توفیق الہٰی ہی حاصل ہوسکتی ہے جیسا کہ اس پر انھوں نے تصریح کی ہے شرح اللباب میں اس کو صحیح کہا، درمختار میں اسی پر جزم کا اظہار کیا مگر چونکہ اہل توثیق بہت ہی کم ہوتے ہیں اور احکام فقہ کی بناء نادر و قلیل پر نہیں ہوتی بلکہ غالب کثیر پر ہوتی ہے تو اب مطلقًا منع کہنا ہی بہتر ہے جیساکہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع