30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تلاھذہ الاٰیۃ ومن یرد فیہ بالحاد بظلم نذقہ من عذاب الیم، وقال سعید بن المسیب للذی جاء من اھل المدینۃ یطلب العلم ارجع الی المدینۃ۔ فانا نسمع ان ساکن مکۃ لایموت حتی یکون الحرم عندہ بمنزلۃ الحل لما یستحل من حرمھا، وعن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ خطیئۃ اصیبھا بمکۃ اعز علی من سبعین خطیئۃ بغیرھا، نعم افراد من عباد اﷲ استخلصھم وخلصھم من مقتضیات الطباع، فاولئٰك ھم اھل الجوار الفائزون بفضیلۃ من تضاعف الحسنات والصلوات من غیر مایحبطھا من الخطیئات والسیئات [1] (ثم سرد احادیث فی ذٰلک) ثم قال لکن الفائز بھٰذا مع السلامۃ من احباطہ اقل القلیل، فلا یبنی الفقہ باعتبارھم ولا یذکر حالھم قیدا فی جواز الجوار، لان شان النفوس الدعوی الکاذبۃ والمبادرۃ الی دعوۃ الملکۃ والقدرۃ علی مایشترط فیما تتوجہ الیہ وتطلبہ، وانھا لأ کذب |
اور جو اس میں کسی زیادتی کا ناحق ارادہ کرے توہم اسے درد ناك عذاب چکھائیں گے، اور حضرت بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مدینہ طیبہ سے طلب علم کے لیے مکہ آنے والے سے فرمایا: مدینہ طیبہ کی طرف واپس چلے جاؤ ہم نے سن رکھا ہے کہ ساکن مکہ نہیں فوت ہوگا حتی کہ حرم اس کے ہاں بمنزل حل کے ہوجاتی ہے کیونکہ وہ اس کی حرمت کا پاس نہیں کرتا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے: مکہ میں کیا جانے والا گناہ دوسرے مقام کے ستر گناہوں سے بد تر ہوتا ہے، ہاں اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہوتے ہیں جنھوں نے اپنی طبائع کے تقاضو ں کو صاف وخاص کرلیا ہے وہی اس پڑوس ومجاورت کے اہل ہیں، وہ ہی حسنات اور عبادات کے فضیلت ودرجات پانے والے ہیں اور وہ سیئات اور گناہوں سے محفوظ رہتے ہیں، (پھر اس سلسلہ میں احادیث ذکر کیں) پھر کہا: لیکن گناہوں میں گرنے سے محفوظ وسلامتی کے ساتھ کا میاب ہونے والے بہت ہی کم ہوتے ہیں اور قلیل لوگوں کے اعتبار سے فقہی حکم کی بنا نہیں ہوتی اور نہ ہی جواز مجاورت کے لیے ان کے حال کو بطور قید ذکر کیا جاتا ہے، کیونکہ انسانی فطرت یہ ہے کہ جھوٹے دعویٰ اور تجربہ کے اعلان میں پیش رفت کرتے ہوئے اور شرائط پر قدرت کا اظہار کرتے ہوئے مطلوب کی طرف بڑھتا ہے حالانکہ وہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع